اختر شمار

تو نے آنسو کبھی دیکھا ہے ستارا کرکےاختر شمار

17 April 2026

11سپیکرز
139لسنرز

سپیکرز

نور مائیر کا پیش کردہ کلام

یا تو سورج جھوٹ ہے یا پھر یہ سایا جھوٹ ہے

یا تو سورج جھوٹ ہے یا پھر یہ سایا جھوٹ ہے آنکھ تو اس پر بھی حیراں ہے کہ کیا کیا جھوٹ ہے مدتوں میں آج دل نے فیصلہ آخر دیا خوبصورت ہی سہی لیکن یہ دنیا جھوٹ ہے خون میں شامل اچھوتی خوشبوؤں کے ساتھ ساتھ کیوں کہوں مجھ میں جو بہتا ہے وہ دریا جھوٹ ہے زندگی کے بارے اتنا ہی کہا سچ جانئے دشت میں بھٹکا ہوا جیسے بگولا جھوٹ ہے

— اختر شمار

ستارہ لے گیا ہے میرا آسمان سے کون

ستارہ لے گیا ہے میرا آسمان سے کون اتر رہا ہے شمارؔ آج میرے دھیان سے کون ابھی سفر میں کوئی موڑ ہی نہیں آیا نکل گیا ہے یہ چپ چاپ داستان سے کون لہو میں آگ لگا کر یہ کون ہنستا ہے یہ انتقام سا لیتا ہے روح و جان سے کون یہ دار چوم کے مسکا رہا ہے کون ادھر گزر رہا ہے تمہارے یہ امتحان سے کون زمین چھوڑنا فی الحال میرے بس میں نہیں دکھائی دینے لگا پھر یہ آسمان سے کون

— اختر شمار