سپیکرز
ایمان
ہوسٹ
ثنا سوئٹ
کو ہوسٹ
نور مائیر
کو ہوسٹ
افتخار احمد
آئیڈیا
آزاد
امل خان
خانزادہ
راجا اکرام قمر
ریبل
شہزاد
عدنان جرال
گلشن شیرازی
محمد اویس
ملک
یادرفتگان
نور مائیر کا پیش کردہ کلام
یا تو سورج جھوٹ ہے یا پھر یہ سایا جھوٹ ہے
یا تو سورج جھوٹ ہے یا پھر یہ سایا جھوٹ ہے آنکھ تو اس پر بھی حیراں ہے کہ کیا کیا جھوٹ ہے مدتوں میں آج دل نے فیصلہ آخر دیا خوبصورت ہی سہی لیکن یہ دنیا جھوٹ ہے خون میں شامل اچھوتی خوشبوؤں کے ساتھ ساتھ کیوں کہوں مجھ میں جو بہتا ہے وہ دریا جھوٹ ہے زندگی کے بارے اتنا ہی کہا سچ جانئے دشت میں بھٹکا ہوا جیسے بگولا جھوٹ ہے
ستارہ لے گیا ہے میرا آسمان سے کون
ستارہ لے گیا ہے میرا آسمان سے کون اتر رہا ہے شمارؔ آج میرے دھیان سے کون ابھی سفر میں کوئی موڑ ہی نہیں آیا نکل گیا ہے یہ چپ چاپ داستان سے کون لہو میں آگ لگا کر یہ کون ہنستا ہے یہ انتقام سا لیتا ہے روح و جان سے کون یہ دار چوم کے مسکا رہا ہے کون ادھر گزر رہا ہے تمہارے یہ امتحان سے کون زمین چھوڑنا فی الحال میرے بس میں نہیں دکھائی دینے لگا پھر یہ آسمان سے کون