سپیکرز
آزاد کا پیش کردہ کلام
اس کے نزدیک غم ترک وفا کچھ بھی نہیں
اس کے نزدیک غم ترک وفا کچھ بھی نہیں مطمئن ایسا ہے وہ جیسے ہوا کچھ بھی نہیں اب تو ہاتھوں سے لکیریں بھی مٹی جاتی ہیں اس کو کھو کر تو مرے پاس رہا کچھ بھی نہیں چار دن رہ گئے میلے میں مگر اب کے بھی اس نے آنے کے لیے خط میں لکھا کچھ بھی نہیں کل بچھڑنا ہے تو پھر عہد وفا سوچ کے باندھ ابھی آغاز محبت ہے گیا کچھ بھی نہیں میں تو اس واسطے چپ ہوں کہ تماشا نہ بنے تو سمجھتا ہے مجھے تجھ سے گلا کچھ بھی نہیں اے شمارؔ آنکھیں اسی طرح بچھائے رکھنا جانے کس وقت وہ آ جائے پتا کچھ بھی نہیں
وہ جس کا عکس لہو کو جگا دیا کرتا
وہ جس کا عکس لہو کو جگا دیا کرتا میں خواب خواب میں اس کو صدا دیا کرتا قریب آتی جو تاریخ اس کے ملنے کی وہ اپنے وعدے کی مدت بڑھا دیا کرتا میں زندگی کے سفر میں تھا مشغلہ اس کا وہ ڈھونڈ ڈھونڈ کے مجھ کو گنوا دیا کرتا اسے سمیٹتا میں جب بھی ایک نقطے میں وہ میرے دھیان میں تتلی اڑا دیا کرتا اسی کے گاؤں کی راہوں میں بیٹھ کر ہر روز میں دل کا حال ہوا کو سنا دیا کرتا مجھے وہ آنکھ میں رکھ کر شمارؔ پچھلی شب عجب خمار میں پلکیں گرا دیا کرتا نہ چھیڑ مجھ کو زمانہ وہ اور تھا جس میں فقیر گالی کے بدلے دعا دیا کرتا