اختر شمار

تو نے آنسو کبھی دیکھا ہے ستارا کرکےاختر شمار

17 April 2026

11سپیکرز
139لسنرز

سپیکرز

آزاد کا پیش کردہ کلام

اس کے نزدیک غم ترک وفا کچھ بھی نہیں

اس کے نزدیک غم ترک وفا کچھ بھی نہیں مطمئن ایسا ہے وہ جیسے ہوا کچھ بھی نہیں اب تو ہاتھوں سے لکیریں بھی مٹی جاتی ہیں اس کو کھو کر تو مرے پاس رہا کچھ بھی نہیں چار دن رہ گئے میلے میں مگر اب کے بھی اس نے آنے کے لیے خط میں لکھا کچھ بھی نہیں کل بچھڑنا ہے تو پھر عہد وفا سوچ کے باندھ ابھی آغاز محبت ہے گیا کچھ بھی نہیں میں تو اس واسطے چپ ہوں کہ تماشا نہ بنے تو سمجھتا ہے مجھے تجھ سے گلا کچھ بھی نہیں اے شمارؔ آنکھیں اسی طرح بچھائے رکھنا جانے کس وقت وہ آ جائے پتا کچھ بھی نہیں

— اختر شمار

وہ جس کا عکس لہو کو جگا دیا کرتا

وہ جس کا عکس لہو کو جگا دیا کرتا میں خواب خواب میں اس کو صدا دیا کرتا قریب آتی جو تاریخ اس کے ملنے کی وہ اپنے وعدے کی مدت بڑھا دیا کرتا میں زندگی کے سفر میں تھا مشغلہ اس کا وہ ڈھونڈ ڈھونڈ کے مجھ کو گنوا دیا کرتا اسے سمیٹتا میں جب بھی ایک نقطے میں وہ میرے دھیان میں تتلی اڑا دیا کرتا اسی کے گاؤں کی راہوں میں بیٹھ کر ہر روز میں دل کا حال ہوا کو سنا دیا کرتا مجھے وہ آنکھ میں رکھ کر شمارؔ پچھلی شب عجب خمار میں پلکیں گرا دیا کرتا نہ چھیڑ مجھ کو زمانہ وہ اور تھا جس میں فقیر گالی کے بدلے دعا دیا کرتا

— اختر شمار