کلامِ شاعر
- 01 بنت حوا
- 02 زمیں زاد
- 03 مشورہ
- 04 آخری پڑاؤ
- 05 بس لوٹ آنا
- 06 شفیق موسموں کو ہم نے رو سیاہ کیا
- 07 شفیق موسموں کو ہم نے رو سیاہ کیا
- 08 اک لہر ملی اپنے بہاؤ سے نکل کر
- 09 آنکھوں میں خواب اور رگ و پے میں خوں نہیں
- 10 کافر دن اور منکر راتیں کن وقتوں میں آ پہنچا ہوں
- 11 ہر قدم آگہی کی سمت گیا
- 12 اک لہر ملی اپنے بہاؤ سے نکل کر
- 13 رونق بزم دل سے رخصت مانگی تھی
- 14 شب میں طلوع چہرۂ مہتاب کیجئے
- 15 در و دیوار سب اوندھے گریں گے
- 16 بھوک افلاس سے تہذیبوں کے دل بوجھل ہو جاتے ہیں
- 17 دائمی ہجرتوں کے بیٹے ہیں
- 18 شکم ماہی کبھی طور عطا کرتا ہے
- 19 انائے جذب و جنوں اوج سے کمال گری
- 20 رواں ان پانیوں پر بلبلے ہیں
- 21 دید کے بدلے سدا دیدۂ تر رکھا ہے
- 22 مسلسل آگ میں اک آگ سی لگی ہوئی ہے
- 23 جنگل میں ہی آ پہنچے ہیں جنگل سے نکل کر
- 24 غموں کی آگ پہ سب خال و خد سنوارے گئے
- 25 خوشبو سا کوئی دن تو ستارا سی کوئی شام
- 26 کہیں آنکھیں کہیں بازو کہیں سے سر نکل آئے
- 27 زرد پتے کی طرح اڑتا ہوا جاتا ہے
- 28 فصل خزاں میں شاخ سے پتا نکال دے
- 29 مسلسل آگ میں اک آگ سی لگی ہوئی ہے
- 30 کھو دئیے ہیں چاند کتنے اک ستارا مانگ کر
- 31 ہر تذکرہ کتاب میں تفصیل سے ہوا
- 32 اندھیرے کو نگلتا جا رہا ہوں
- 33 شام ڈھلتے ہی ترے دھیان میں آ جاتا ہوں
- 34 سہمے نحیف دریا کے دھارے کی بات کر
- 35 چمکتی اوس کی صورت گلوں کی آرزو ہونا