سپیکرز
ایمان
ہوسٹ
ثنا سوئٹ
کو ہوسٹ
نور مائیر
کو ہوسٹ
افتخار احمد
آئیڈیا
امل خان
امید صبح
پرشانت
تنویر دانش
حرااعوان
راجا اکرام قمر
کریسنٹ
گلشن شیرازی
ملک
نایاب
پرشانت کا پیش کردہ کلام
بے گھری ہے کہاں ٹھکانا ہے
بے گھری ہے کہاں ٹھکانا ہے کیا خبر کتنی دور جانا ہے آپ یہ بوجھ کہہ رہے ہیں جسے ہم نے اک عمر تک اٹھانا ہے اس کی حرمت پہ حرف آتے ہی ہم فقیروں نے ہار جانا ہے ہم کسی اور ہی زمانے سے یہ کوئی اور ہی زمانا ہے ہم کو زخموں کی فکر لاحق ہے آپ نے قافیہ نبھانا ہے یہ جو خاموش ہے یہ دانش ہے شہر نے غلغلا مچانا ہے