تنویر دانش

ایک شام جناب تنویر دانش صاحب کے نام

22 May 2026

10سپیکرز
18000لسنرز

سپیکرز

پرشانت کا پیش کردہ کلام

بے گھری ہے کہاں ٹھکانا ہے

بے گھری ہے کہاں ٹھکانا ہے کیا خبر کتنی دور جانا ہے آپ یہ بوجھ کہہ رہے ہیں جسے ہم نے اک عمر تک اٹھانا ہے اس کی حرمت پہ حرف آتے ہی ہم فقیروں نے ہار جانا ہے ہم کسی اور ہی زمانے سے یہ کوئی اور ہی زمانا ہے ہم کو زخموں کی فکر لاحق ہے آپ نے قافیہ نبھانا ہے یہ جو خاموش ہے یہ دانش ہے شہر نے غلغلا مچانا ہے

— تنویر دانش