تنویر دانش

ایک شام جناب تنویر دانش صاحب کے نام

22 May 2026

10سپیکرز
18000لسنرز

سپیکرز

ایمان کا پیش کردہ کلام

اس نے کچھ دیر محبت کی اداکاری کی

اس نے کچھ دیر محبت کی اداکاری کی دلِ خوش فہم نے بھی خوب طرف داری کی ثانیِ قیس مجھے دشت نوردوں نے کہا حضرتِ عشق نے کیا خوب سند جاری کی ہم بضد تھے کہ کوئی بات نہیں کرنی تجھ سے دل نے سینے میں دھڑکتے ہوئے غداری کی عشق پیشہ ہیں یہی کام ہمیں آتا ہے ہجر سے نکلے اک ہجر کی تیاری کی اب تو ہر ذرہِ صحرا بھی مجھے جانتا ہے صاحب دشت کی اک عمر نمک خواری کی قہقہوں میں جو کئی رنج چھپائے ہم نے اس طرف داد بڑھا ہم نے بھی فنکاری کی اور چرچا نہ کرے بات کرے دانش سے دل نے دھڑکن سے کہا دل نے سمجھ داری کی

— تنویر دانش

کھینچ کر روشنی میں لایا گیا

کھینچ کر روشنی میں لایا گیا آدمی آدمی بنایا گیا اک مہارت سے نبض کاٹی گٸی اور اسے حادثہ بتایا گیا خواب آلود رہ گٸیں آنکھیں ہم کو تعبیر سے ڈرایا گیا سانس لینا کہاں ضروری تھا کام چلتا تھا بس چلایا گیا میرا پہلا قدم تھا امبر پر جب نظر سے مجھے گرایا گیا

— تنویر دانش