سپیکرز
ایمان کا پیش کردہ کلام
اس نے کچھ دیر محبت کی اداکاری کی
اس نے کچھ دیر محبت کی اداکاری کی دلِ خوش فہم نے بھی خوب طرف داری کی ثانیِ قیس مجھے دشت نوردوں نے کہا حضرتِ عشق نے کیا خوب سند جاری کی ہم بضد تھے کہ کوئی بات نہیں کرنی تجھ سے دل نے سینے میں دھڑکتے ہوئے غداری کی عشق پیشہ ہیں یہی کام ہمیں آتا ہے ہجر سے نکلے اک ہجر کی تیاری کی اب تو ہر ذرہِ صحرا بھی مجھے جانتا ہے صاحب دشت کی اک عمر نمک خواری کی قہقہوں میں جو کئی رنج چھپائے ہم نے اس طرف داد بڑھا ہم نے بھی فنکاری کی اور چرچا نہ کرے بات کرے دانش سے دل نے دھڑکن سے کہا دل نے سمجھ داری کی
کھینچ کر روشنی میں لایا گیا
کھینچ کر روشنی میں لایا گیا آدمی آدمی بنایا گیا اک مہارت سے نبض کاٹی گٸی اور اسے حادثہ بتایا گیا خواب آلود رہ گٸیں آنکھیں ہم کو تعبیر سے ڈرایا گیا سانس لینا کہاں ضروری تھا کام چلتا تھا بس چلایا گیا میرا پہلا قدم تھا امبر پر جب نظر سے مجھے گرایا گیا