تنویر دانش

ایک شام جناب تنویر دانش صاحب کے نام

22 May 2026

10سپیکرز
18000لسنرز

سپیکرز

کریسنٹ کا پیش کردہ کلام

دستِ بیزار سے یونہی نہ اچھالے جاتے

دستِ بیزار سے یونہی نہ اچھالے جاتے ہم جو کچھ ہوتے مرے یار سنبھالے جاتے ہم جو طاقوں سے گرائے ہوئے کچھ کشتہ چراغ کل تھے پاتال تلک اپنے اجالے جاتے ہم ہیں یخ بحر کہ خاموش پڑے رہتے ہیں ہوتے طغیاں تو کیا کچھ نہ بہا لے جاتےہ اتنی درکار فقط رقصِ رگِ و قلب رہے پھر سہولت سے ترے چاہنے والے جاتے ایک مدت سے پڑے ہیں تو پڑے ہیں دانش کاش یوسف کی طرح ہم بھی نکالے جاتے

— تنویر دانش