تنویر دانش

ایک شام جناب تنویر دانش صاحب کے نام

22 May 2026

10سپیکرز
18000لسنرز

سپیکرز

نور مائیر کا پیش کردہ کلام

میں چاہتا ہوں کوٸی دشت میں جلاے چراغ

میں چاہتا ہوں کوٸی دشت میں جلاے چراغ مگر یہ شرط نہ کچھ بھی جلے سواے چراغ ہم آخری تھے میاں اب کے قحط سے پہلے ہمارے بعد ہمیں ڈھونڈنے کو آے چراغ ابھی ہوا نے تو بدلے ہی تھے ذرا تیور کہ ہم بھی دوڑ پڑے اور کہا کہ ہاے چراغ شعور اب بھی کہیں راستے میں اونگتا ہے جنوں پہ آٸے ہوٸے عشق نے جلاے چراغ یہ سوچتے ہیں کہ کوزہ گری کریں اس سے ہماری خاک ہی ٹھہرے گی اب بِناے چراغ

— تنویر دانش