تنویر دانش

ایک شام جناب تنویر دانش صاحب کے نام

22 May 2026

10سپیکرز
18000لسنرز

سپیکرز

تنویر دانش کا پیش کردہ کلام

تری گلی کے جنہیں بام و در دکھائے گئے

تری گلی کے جنہیں بام و در دکھائے گئے کلیجہ تھام کے کہنے لگے کہ ہاٸے گٸے ہجوم رقص میں رہتا ہے تیری یادوں کا کہ ہم تو ہجر سے بیکار میں ڈراٸے گٸے ہمارے نام سے تم کو پکارا جانے لگا تمہارٕے شہر میں دو چار بار آٸے گٸے جنابِ من ہمیں نوکِ سناں سے نسبت ہے وہ اور لوگ تھے تخت پر بٹھاٸے گٸے ہمارا کام چلایا تمہاری آنکھوں نے یہ آٸینے تو بہت بعد میں بناٸے گٸے ہماری آنکھ سے لالی ادھار مانگی گٸی تمہارے ہاتھ میری جان جب حناٸے گٸے یہ جن کو اپنی دکاں میں سجائے پھرتے ہو یہ سارے خواب مری آنکھ سے چرائے گئے

— تنویر دانش

لا الہ ہے بِنا محبت کی

لا الہ ہے بِنا محبت کی ہم پہ اتری دعا محبت کی جانے اپنا شمار کیا ہوگا لاج رکھے خدا محبت کی آستانہ ترا آباد رہے دے فقیرا دعا محبت کی قیس مجھ سے ملا تو کہنے لگا دوستا کچھ سنا محبت کی دشت ناپید ہونے لگا جائیں چل پڑے جو ہوا محبت کی خواب بھر قبر میں قیام کیا مجھ سے پوچھا گیا محبت کی ایک احسان کر دے دانش پر اس پہ تہمت لگا محبت کی

— تنویر دانش

میں چاہتا ہوں کوٸی دشت میں جلاے چراغ

میں چاہتا ہوں کوٸی دشت میں جلاے چراغ مگر یہ شرط نہ کچھ بھی جلے سواے چراغ ہم آخری تھے میاں اب کے قحط سے پہلے ہمارے بعد ہمیں ڈھونڈنے کو آے چراغ ابھی ہوا نے تو بدلے ہی تھے ذرا تیور کہ ہم بھی دوڑ پڑے اور کہا کہ ہاے چراغ شعور اب بھی کہیں راستے میں اونگتا ہے جنوں پہ آٸے ہوٸے عشق نے جلاے چراغ یہ سوچتے ہیں کہ کوزہ گری کریں اس سے ہماری خاک ہی ٹھہرے گی اب بِناے چراغ

— تنویر دانش

میں اپنے قد سے جو ہاتھ اونچا اٹھا رہا ہوں

میں اپنے قد سے جو ہاتھ اونچا اٹھا رہا ہوں یقین مانو کہ بس تعلق نبھا رہا ہوں یہ چاند تاروں کی لو کو کس نے بڑھا دیا ہے خبر یہاں پر ہے کیسے پہنچی میں آرہا ہوں مرے جنازے کو جا کےپیڑوں کے پاس رکھنا وہ چل کے آٸیں گے اتنا کہنا بلا رہا ہوں گھڑی محبت کی اک نشانی جو بند پڑی ہے بیکار اس کی میں سوٸیوں کو گھوما رہا ہوں تمہیں پرندوں سے بات کرنے کا ڈھب سکھا لوں تو خود پرندوں سے پوچھ لینا میں کیا رہا ہوں میں سونے ہیڑوں کا دکھ سمجھتا ہوں یار دانش سو کچھ دنوں میں خود پرندے بنا رہا ہوں

— تنویر دانش