سپیکرز
ایمان
ہوسٹ
ثنا سوئٹ
کو ہوسٹ
نور مائیر
کو ہوسٹ
افتخار احمد
آئیڈیا
امل خان
امید صبح
پرشانت
تنویر دانش
حرااعوان
راجا اکرام قمر
کریسنٹ
گلشن شیرازی
ملک
نایاب
امل خان کا پیش کردہ کلام
کتابِ زیست میں چاہت کے باب تھے ہی نہیں
کتابِ زیست میں چاہت کے باب تھے ہی نہیں کہ اس کتاب کے ہم انتساب تھے ہی نہیں حیات پوچھ رہی تھی سوال ایسے بھی سوال ایسے کہ جن کے جواب تھے ہی نہیں ترے جہان کے وہ لوگ کیا ہوے یا رب زبان کند اور آنکھوں میں خواب تھے ہی نہیں ہمارے گرد گھماٸی گئی کہانی مگر ہم اس کی حسبِ ضرورت خراب تھے ہی نہیں اسے بتا کہ ملے ہیں ترے بگاڑے ہوئے اسے بتا کہ یہ عالی جناب تھے ہی نہیں تمہاے شہر میں رکتے بھی کس طرح دانش تمہارے شہر میں چہرے گلاب تھے ہی نہیں