سپیکرز
ندیم بخاری کا پیش کردہ کلام
نقش کی طرح ابھرنا بھی تمہی سے سیکھا
نقش کی طرح ابھرنا بھی تمہی سے سیکھا رفتہ رفتہ نظر آنا بھی تمہی سے سیکھا تم سے حاصل ہوا اک گہرے سمندر کا سکوت اور ہر موج سے لڑنا بھی تمہی سے سیکھا اچھے شعروں کی پرکھ تم نے ہی سکھلائی مجھے اپنے انداز سے کہنا بھی تمہی سے سیکھا تم نے سمجھائے مری سوچ کو آداب ادب لفظ و معنی سے الجھنا بھی تمہی سے سیکھا رشتۂ ناز کو جانا بھی تو تم سے جانا جامۂ فخر پہننا بھی تمہی سے سیکھا چھوٹی سی بات پہ خوش ہونا مجھے آتا تھا پر بڑی بات پہ چپ رہنا تمہی سے سیکھا
بستی میں کچھ لوگ نرالے اب بھی ہیں
بستی میں کچھ لوگ نرالے اب بھی ہیں دیکھو خالی دامن والے اب بھی ہیں دیکھو وہ بھی ہیں جو سب کہہ سکتے تھے دیکھو ان کے منہ پر تالے اب بھی ہیں دیکھو ان آنکھوں کو جنہوں نے سب دیکھا دیکھو ان پر خوف کے جالے اب بھی ہیں دیکھو اب بھی جنس وفا نایاب نہیں اپنی جان پہ کھیلنے والے اب بھی ہیں تارے ماند ہوئے پر ذرے روشن ہیں مٹی میں آباد اجالے اب بھی ہیں