زہرا نگاہ

کہاں کے عشق و محبت کدھر کے ہجر ووصال زہرانگاہ

23 January 2026

17سپیکرز
285لسنرز

سپیکرز

ندیم بخاری کا پیش کردہ کلام

نقش کی طرح ابھرنا بھی تمہی سے سیکھا

نقش کی طرح ابھرنا بھی تمہی سے سیکھا رفتہ رفتہ نظر آنا بھی تمہی سے سیکھا تم سے حاصل ہوا اک گہرے سمندر کا سکوت اور ہر موج سے لڑنا بھی تمہی سے سیکھا اچھے شعروں کی پرکھ تم نے ہی سکھلائی مجھے اپنے انداز سے کہنا بھی تمہی سے سیکھا تم نے سمجھائے مری سوچ کو آداب ادب لفظ و معنی سے الجھنا بھی تمہی سے سیکھا رشتۂ ناز کو جانا بھی تو تم سے جانا جامۂ فخر پہننا بھی تمہی سے سیکھا چھوٹی سی بات پہ خوش ہونا مجھے آتا تھا پر بڑی بات پہ چپ رہنا تمہی سے سیکھا

— زہرا نگاہ

بستی میں کچھ لوگ نرالے اب بھی ہیں

بستی میں کچھ لوگ نرالے اب بھی ہیں دیکھو خالی دامن والے اب بھی ہیں دیکھو وہ بھی ہیں جو سب کہہ سکتے تھے دیکھو ان کے منہ پر تالے اب بھی ہیں دیکھو ان آنکھوں کو جنہوں نے سب دیکھا دیکھو ان پر خوف کے جالے اب بھی ہیں دیکھو اب بھی جنس وفا نایاب نہیں اپنی جان پہ کھیلنے والے اب بھی ہیں تارے ماند ہوئے پر ذرے روشن ہیں مٹی میں آباد اجالے اب بھی ہیں

— زہرا نگاہ