زہرا نگاہ

کہاں کے عشق و محبت کدھر کے ہجر ووصال زہرانگاہ

23 January 2026

17سپیکرز
285لسنرز

سپیکرز

کریسنٹ کا پیش کردہ کلام

متاع الفاظ

یہ جو تم مجھ سے گریزاں ہو مری بات سنو ہم اسی چھوٹی سی دنیا کے کسی رستے پر اتفاقا کبھی بھولے سے کہیں مل جائیں کیا ہی اچھا ہو کہ ہم دوسرے لوگوں کی طرح کچھ تکلف سے سہی ٹھہر کے کچھ بات کریں اور اس عرصۂ اخلاق و مروت میں کبھی ایک پل کے لئے وہ ساعت نازک آ جائے ناخن لفظ کسی یاد کے زخموں کو چھوئے اک جھجکتا ہوا جملہ کوئی دکھ دے جائے کون جانے گا کہ ہم دونوں پہ کیا بیتی ہے اس خموشی کے اندھیروں سے نکل آئیں چلو کسی سلگے ہوئے لہجے سے چراغاں کر لیں چن لیں پھولوں کی طرح ہم بھی متاع الفاظ اپنے اجڑے ہوئے دامن کو گلستاں کر لیں چن لیں پھولوں کی طرح ہم بھی متاع الفاظ دولت درد بڑی چیز ہے اقرار کرو نعمت غم بڑی نعمت ہے یہ اظہار کرو لفظ پیمان بھی اقرار بھی اظہار بھی ہیں طاقت صبر اگر ہو تو یہ غم خوار بھی ہیں ہاتھ خالی ہوں تو یہ جنس گراں بار بھی ہیں پاس کوئی بھی نہ ہو پھر تو یہ دل دار بھی ہیں ہاتھ خالی ہوں تو یہ جنس گراں بار بھی ہیں یہ جو تم مجھ سے گریزاں ہو مری بات سنو یہ جو تم مجھ سے گریزاں ہو مری بات سنو

— زہرا نگاہ

جرمِ وعدہ

مِرے بچّے ہزاروں بار میں نے تم کو اک قصہ سنایا ہے کبھی لوری کے آنچل میں کبھی باتوں کے جھولے میں تمھیں بہلا کے لپٹا کے سُلایا ہے تمہارے گرم رخساروں کو اپنے سرد ہونٹوں سے چھوا ہے تم سے اک وعدہ کیا ہے مِرے بچّے کہانی میں تھکی ہاری جو لڑکی تھی وہ شہزادی نہیں میں تھی وہ جادو کا محل جو اک پل میں جل کے صحرا ہو گیا تھا وہ مِرا گھر تھا جہاں آنکھوں کی سوئیاں رہ گئی تھیں خواب میرے تھے وہ جن میں گھِر گئی تھی غیر کیا سب میرے اپنے تھے جہاں اسکا فسانہ تھا وہیں میری حقیقت تھی جہاں وہ مڑ کے پتھر ہو گئی میری محبت تھی ہزاروں آگ کے میدان تھے بارش لہو کی تھی یہ سب کچھ مجھ پہ گزری تھی مِرے بچّے کہانی میں تھکی ہاری جو لڑکی تھی وہ شہزادی نہیں میں تھی جہاں قصے کا آخر تھا مِرے بچّے ! وہاں تم تھے خوشی کی زندگانی کی علامت تمناؤں کا اک خوابِ مسلسل رفاقت کی صداقت کی ضمانت جہاں پر صرف خوش انجام تھا ، ہر ایک افسانہ مرے بچّے ! وہاں تم تھے ، وہاں تم تھے مری آنکھیں کسی پیمان کے زخموں سے بوجھل تھیں تمہارا عکس ان زخموں کا مرہم تھا ادھورے عہد کے رعشے سے میرے ہاتھ لرزاں تھے تمہارا ساتھ اک تسکینِ پیہم تھا مجھے اقرار تھا میں خاک ہوں تم حسن و زیبائش مجھے احساس تھا میں خوف ہوں تم امن و آسائش میں ماضی ہوں مگر تم صورتِ فردا فروزاں ہو میں مشکل ہوں مگر تم صورتِ امید آساں ہو مِرے بچّے ! مرا احساس اور اقرار دونوں آج مجرم ہیں میں اپنا سر جھکاۓ اپنی فردِ جرم سنتی ہوں بجاۓ گل رداۓِ آرزو سے خار چنتی ہوں تمھیں معلوم ہے الزام کیا ہے وہی وعدہ جو انسانوں کی تقدیروں میں لکھا ہے تحفظ کا ، تمہاری آبرو کا ، سر بلندی کا

— زہرا نگاہ