سپیکرز
زاہدحسین کا پیش کردہ کلام
چھلک رہی ہے مئے ناب تشنگی کے لئے
چھلک رہی ہے مئے ناب تشنگی کے لئے سنور رہی ہے تری بزم برہمی کے لئے نہیں نہیں ہمیں اب تیری جستجو بھی نہیں تجھے بھی بھول گئے ہم تری خوشی کے لئے جو تیرگی میں ہویدا ہو قلب انساں سے ضیا نواز وہ شعلہ ہے تیرگی کے لئے کہاں کے عشق و محبت کدھر کے ہجر و وصال ابھی تو لوگ ترستے ہیں زندگی کے لئے جہان نو کا تصور حیات نو کا خیال بڑے فریب دئے تم نے بندگی کے لئے مئے حیات میں شامل ہے تلخیٔ دوراں جبھی تو پی کے ترستے ہیں بے خودی کے لئے
قربتوں سے کب تلک اپنے کو بہلائیں گے ہم
قربتوں سے کب تلک اپنے کو بہلائیں گے ہم ڈوریاں مضبوط ہوں گی چھٹتے جائیں گے ہم تیرا رخ سائے کی جانب میری آنکھیں سوئے مہر دیکھنا ہے کس جگہ کس وقت مل پائیں گے ہم گھر کے سارے پھول ہنگاموں کی رونق ہو گئے خالی گلدانوں سے باتیں کرکے سو جائیں گے ہم ادھ کھلی تکیے پہ ہوگی علم و حکمت کی کتاب وسوسوں وہموں کے طوفانوں میں گھر جائیں گے ہم اس نے آہستہ سے زہراؔ کہہ دیا دل کھل اٹھا آج سے اس نام کی خوشبو میں بس جائیں گے ہم