زہرا نگاہ

کہاں کے عشق و محبت کدھر کے ہجر ووصال زہرانگاہ

23 January 2026

17سپیکرز
285لسنرز

سپیکرز

زاہدحسین کا پیش کردہ کلام

چھلک رہی ہے مئے ناب تشنگی کے لئے

چھلک رہی ہے مئے ناب تشنگی کے لئے سنور رہی ہے تری بزم برہمی کے لئے نہیں نہیں ہمیں اب تیری جستجو بھی نہیں تجھے بھی بھول گئے ہم تری خوشی کے لئے جو تیرگی میں ہویدا ہو قلب انساں سے ضیا نواز وہ شعلہ ہے تیرگی کے لئے کہاں کے عشق و محبت کدھر کے ہجر و وصال ابھی تو لوگ ترستے ہیں زندگی کے لئے جہان نو کا تصور حیات نو کا خیال بڑے فریب دئے تم نے بندگی کے لئے مئے حیات میں شامل ہے تلخیٔ دوراں جبھی تو پی کے ترستے ہیں بے خودی کے لئے

— زہرا نگاہ

قربتوں سے کب تلک اپنے کو بہلائیں گے ہم

قربتوں سے کب تلک اپنے کو بہلائیں گے ہم ڈوریاں مضبوط ہوں گی چھٹتے جائیں گے ہم تیرا رخ سائے کی جانب میری آنکھیں سوئے مہر دیکھنا ہے کس جگہ کس وقت مل پائیں گے ہم گھر کے سارے پھول ہنگاموں کی رونق ہو گئے خالی گلدانوں سے باتیں کرکے سو جائیں گے ہم ادھ کھلی تکیے پہ ہوگی علم و حکمت کی کتاب وسوسوں وہموں کے طوفانوں میں گھر جائیں گے ہم اس نے آہستہ سے زہراؔ کہہ دیا دل کھل اٹھا آج سے اس نام کی خوشبو میں بس جائیں گے ہم

— زہرا نگاہ