سپیکرز
ایمان
ہوسٹ
ثنا سوئٹ
کو ہوسٹ
نور مائیر
کو ہوسٹ
افتخار احمد
آئیڈیا
افراسیاب
امل خان
انتظار حسین
ایم سعید
حسین بلوچ
حماد ابراہیم
راجا اکرام قمر
زاہدحسین
سجاد رضا
سحربیاں
سید جینٹلمین
شہزاد
کریسنٹ
نایاب
نجیب قدیر
ندیم بخاری
یادرفتگان
سید جینٹلمین کا پیش کردہ کلام
بھولی بسری یادوں کو لپٹائے ہوئے ہوں
بھولی بسری یادوں کو لپٹائے ہوئے ہوں ٹوٹا جال سمندر پر پھیلائے ہوئے ہوں وحشت کرنے سے بھی دل بیزار ہوا ہے دشت و سمندر آنچل میں سمٹائے ہوئے ہوں وہ خوشبو بن کر آئے تو بے شک آئے میں بھی دست صبا سے ہاتھ ملائے ہوئے ہوں ٹوٹے پھوٹے لفظوں کے کچھ رنگ گھلے تھے ان کی مہندی آج تلک بھی رچائے ہوئے ہوں جن باتوں کو سننا تک بار خاطر تھا آج انہیں باتوں سے دل بہلائے ہوئے ہوں
بیٹھے بیٹھے کیسا دل گھبرا جاتا ہے
بیٹھے بیٹھے کیسا دل گھبرا جاتا ہے جانے والوں کا جانا یاد آ جاتا ہے بات چیت میں جس کی روانی مثل ہوئی ایک نام لیتے میں کچھ رک سا جاتا ہے ہنستی بستی راہوں کا خوش باش مسافر روزی کی بھٹی کا ایندھن بن جاتا ہے دفتر منصب دونوں ذہن کو کھا لیتے ہیں گھر والوں کی قسمت میں تن رہ جاتا ہے اب اس گھر کی آبادی مہمانوں پر ہے کوئی آ جائے تو وقت گزر جاتا ہے