زہرا نگاہ

کہاں کے عشق و محبت کدھر کے ہجر ووصال زہرانگاہ

23 January 2026

17سپیکرز
285لسنرز

سپیکرز

سید جینٹلمین کا پیش کردہ کلام

بھولی بسری یادوں کو لپٹائے ہوئے ہوں

بھولی بسری یادوں کو لپٹائے ہوئے ہوں ٹوٹا جال سمندر پر پھیلائے ہوئے ہوں وحشت کرنے سے بھی دل بیزار ہوا ہے دشت و سمندر آنچل میں سمٹائے ہوئے ہوں وہ خوشبو بن کر آئے تو بے شک آئے میں بھی دست صبا سے ہاتھ ملائے ہوئے ہوں ٹوٹے پھوٹے لفظوں کے کچھ رنگ گھلے تھے ان کی مہندی آج تلک بھی رچائے ہوئے ہوں جن باتوں کو سننا تک بار خاطر تھا آج انہیں باتوں سے دل بہلائے ہوئے ہوں

— زہرا نگاہ

بیٹھے بیٹھے کیسا دل گھبرا جاتا ہے

بیٹھے بیٹھے کیسا دل گھبرا جاتا ہے جانے والوں کا جانا یاد آ جاتا ہے بات چیت میں جس کی روانی مثل ہوئی ایک نام لیتے میں کچھ رک سا جاتا ہے ہنستی بستی راہوں کا خوش باش مسافر روزی کی بھٹی کا ایندھن بن جاتا ہے دفتر منصب دونوں ذہن کو کھا لیتے ہیں گھر والوں کی قسمت میں تن رہ جاتا ہے اب اس گھر کی آبادی مہمانوں پر ہے کوئی آ جائے تو وقت گزر جاتا ہے

— زہرا نگاہ