زہرا نگاہ

کہاں کے عشق و محبت کدھر کے ہجر ووصال زہرانگاہ

23 January 2026

17سپیکرز
285لسنرز

سپیکرز

نجیب قدیر کا پیش کردہ کلام

وہ جو اک شکل مرے چار طرف بکھری تھی

وہ جو اک شکل مرے چار طرف بکھری تھی میں نے جب غور سے دیکھا تو مری اپنی تھی پھر اسیروں پہ کسی خواب نے جادو ڈالا رات کچھ حلقۂ زنجیر میں خاموشی تھی یوں تو آداب محبت میں سبھی جائز تھا پھر بھی چپ رہنے میں اک شان دلآویزی تھی رات بھر جاگنے والوں نے پس شمع زرد صبح اک خواب کی صورت کی طرح دیکھی تھی شورش شعر میں خاموش سی کیوں ہے زہراؔ اچھا خاصا تو کبھی وہ بھی کہا کرتی تھی

— زہرا نگاہ