سپیکرز
ایمان
ہوسٹ
ثنا سوئٹ
کو ہوسٹ
نور مائیر
کو ہوسٹ
افتخار احمد
آئیڈیا
افراسیاب
امل خان
انتظار حسین
ایم سعید
حسین بلوچ
حماد ابراہیم
راجا اکرام قمر
زاہدحسین
سجاد رضا
سحربیاں
سید جینٹلمین
شہزاد
کریسنٹ
نایاب
نجیب قدیر
ندیم بخاری
یادرفتگان
افراسیاب کا پیش کردہ کلام
یہ سچ ہے یہاں شور زیادہ نہیں ہوتا
یہ سچ ہے یہاں شور زیادہ نہیں ہوتا گھر بار کے بازار میں پر کیا نہیں ہوتا جبر دل بے مہر کا چرچا نہیں ہوتا تاریکئ شب میں کوئی چہرہ نہیں ہوتا ہر جذبۂ معصوم کی لگ جاتی ہے بولی کہنے کو خریدار پرایا نہیں ہوتا عورت کے خدا دو ہیں حقیقی و مجازی پر اس کے لیے کوئی بھی اچھا نہیں ہوتا شب بھر کا ترا جاگنا اچھا نہیں زہراؔ پھر دن کا کوئی کام بھی پورا نہیں ہوتا
اس رہ گزر میں اپنا قدم بھی جدا ملا
اس رہ گزر میں اپنا قدم بھی جدا ملا اتنی صعوبتوں کا ہمیں یہ صلہ ملا اک وسعت خیال کہ لفظوں میں گھر گئی لہجہ کبھی جو ہم کو کرم آشنا ملا تاروں کو گردشیں ملیں ذروں کو تابشیں اے رہ نورد راہ جنوں تجھ کو کیا ملا ہم سے بڑھی مسافت دشت وفا کہ ہم خود ہی بھٹک گئے جو کبھی راستہ ملا