زہرا نگاہ

کہاں کے عشق و محبت کدھر کے ہجر ووصال زہرانگاہ

23 January 2026

17سپیکرز
285لسنرز

سپیکرز

افراسیاب کا پیش کردہ کلام

یہ سچ ہے یہاں شور زیادہ نہیں ہوتا

یہ سچ ہے یہاں شور زیادہ نہیں ہوتا گھر بار کے بازار میں پر کیا نہیں ہوتا جبر دل بے مہر کا چرچا نہیں ہوتا تاریکئ شب میں کوئی چہرہ نہیں ہوتا ہر جذبۂ معصوم کی لگ جاتی ہے بولی کہنے کو خریدار پرایا نہیں ہوتا عورت کے خدا دو ہیں حقیقی و مجازی پر اس کے لیے کوئی بھی اچھا نہیں ہوتا شب بھر کا ترا جاگنا اچھا نہیں زہراؔ پھر دن کا کوئی کام بھی پورا نہیں ہوتا

— زہرا نگاہ

اس رہ گزر میں اپنا قدم بھی جدا ملا

اس رہ گزر میں اپنا قدم بھی جدا ملا اتنی صعوبتوں کا ہمیں یہ صلہ ملا اک وسعت خیال کہ لفظوں میں گھر گئی لہجہ کبھی جو ہم کو کرم آشنا ملا تاروں کو گردشیں ملیں ذروں کو تابشیں اے رہ نورد راہ جنوں تجھ کو کیا ملا ہم سے بڑھی مسافت دشت وفا کہ ہم خود ہی بھٹک گئے جو کبھی راستہ ملا

— زہرا نگاہ