میراجی

میر ملے تھے میرا جی سے باتوں سے ہم جان گئے میرا جی

29 January 2026

17سپیکرز
280لسنرز

سپیکرز

ندیم بخاری کا پیش کردہ کلام

چاند ستارے قید ہیں سارے وقت کے بندی خانے میں

چاند ستارے قید ہیں سارے وقت کے بندی خانے میں لیکن میں آزاد ہوں ساقی چھوٹے سے پیمانے میں عمر ہے فانی عمر ہے باقی اس کی کچھ پروا ہی نہیں تو یہ کہہ دے وقت لگے گا کتنا آنے جانے میں تجھ سے دوری دوری کب تھی پاس اور دور تو دھوکا ہیں فرق نہیں انمول رتن کو کھو کر پھر سے پانے میں دو پل کی تھی اندھی جوانی نادانی کی بھر پایا عمر بھلا کیوں بیتے ساری رو رو کر پچھتانے میں پہلے تیرا دیوانہ تھا اب ہے اپنا دیوانہ پاگل پن ہے ویسا ہی کچھ فرق نہیں دیوانے میں خوشیاں آئیں اچھا آئیں مجھ کو کیا احساس نہیں سدھ بدھ ساری بھول گیا ہوں دکھ کے گیت سنانے میں اپنی بیتی کیسے سنائیں مد مستی کی باتیں ہیں میراجیؔ کا جیون بیتا پاس کے اک مے خانے میں

— میراجی

زندگی ایک اذیت ہے مجھے

زندگی ایک اذیت ہے مجھے تجھ سے ملنے کی ضرورت ہے مجھے دل میں ہر لحظہ ہے صرف ایک خیال تجھ سے کس درجہ محبت ہے مجھے تری صورت تری زلفیں ملبوس بس انہی چیزوں سے رغبت ہے مجھے مجھ پہ اب فاش ہوا راز حیات زیست اب سے تری چاہت ہے مجھے تیز ہے وقت کی رفتار بہت اور بہت تھوڑی سی فرصت ہے مجھے سانس جو بیت گیا بیت گیا بس اسی بات کی کلفت ہے مجھے آہ میری ہے تبسم تیرا اس لیے درد بھی راحت ہے مجھے اب نہیں دل میں مرے شوق وصال اب ہر اک شے سے فراغت ہے مجھے اب نہ وہ جوش تمنا باقی اب نہ وہ عشق کی وحشت ہے مجھے اب یوں ہی عمر گزر جائے گی اب یہی بات غنیمت ہے مجھے

— میراجی