سپیکرز
ندیم بخاری کا پیش کردہ کلام
چاند ستارے قید ہیں سارے وقت کے بندی خانے میں
چاند ستارے قید ہیں سارے وقت کے بندی خانے میں لیکن میں آزاد ہوں ساقی چھوٹے سے پیمانے میں عمر ہے فانی عمر ہے باقی اس کی کچھ پروا ہی نہیں تو یہ کہہ دے وقت لگے گا کتنا آنے جانے میں تجھ سے دوری دوری کب تھی پاس اور دور تو دھوکا ہیں فرق نہیں انمول رتن کو کھو کر پھر سے پانے میں دو پل کی تھی اندھی جوانی نادانی کی بھر پایا عمر بھلا کیوں بیتے ساری رو رو کر پچھتانے میں پہلے تیرا دیوانہ تھا اب ہے اپنا دیوانہ پاگل پن ہے ویسا ہی کچھ فرق نہیں دیوانے میں خوشیاں آئیں اچھا آئیں مجھ کو کیا احساس نہیں سدھ بدھ ساری بھول گیا ہوں دکھ کے گیت سنانے میں اپنی بیتی کیسے سنائیں مد مستی کی باتیں ہیں میراجیؔ کا جیون بیتا پاس کے اک مے خانے میں
زندگی ایک اذیت ہے مجھے
زندگی ایک اذیت ہے مجھے تجھ سے ملنے کی ضرورت ہے مجھے دل میں ہر لحظہ ہے صرف ایک خیال تجھ سے کس درجہ محبت ہے مجھے تری صورت تری زلفیں ملبوس بس انہی چیزوں سے رغبت ہے مجھے مجھ پہ اب فاش ہوا راز حیات زیست اب سے تری چاہت ہے مجھے تیز ہے وقت کی رفتار بہت اور بہت تھوڑی سی فرصت ہے مجھے سانس جو بیت گیا بیت گیا بس اسی بات کی کلفت ہے مجھے آہ میری ہے تبسم تیرا اس لیے درد بھی راحت ہے مجھے اب نہیں دل میں مرے شوق وصال اب ہر اک شے سے فراغت ہے مجھے اب نہ وہ جوش تمنا باقی اب نہ وہ عشق کی وحشت ہے مجھے اب یوں ہی عمر گزر جائے گی اب یہی بات غنیمت ہے مجھے