میراجی

میر ملے تھے میرا جی سے باتوں سے ہم جان گئے میرا جی

29 January 2026

17سپیکرز
280لسنرز

سپیکرز

نور مائیر کا پیش کردہ کلام

الجھن کی کہانی

ایک اکہرا دوسرا دہرا تیسرا ہے سو تہرا ہے ایک اکہرے پر پل پل کو دھیان کا خونیں پہرہ ہے دوسرے دوہرے کے رستے میں تیسرا کھیل کا مہرہ ہے تیسرا تہرہ جو ہے اس کا سب سے اجاگر چہرہ ہے گویا اکہرا پہرا دہرہ مہرا، تہرا چہرہ ہے ایک اکہرا کاغذ دہرا تہرا ہو کر ناؤ بنی ناؤ سے پل بھر بچے بہلے کھیل کھیل میں گھاؤ بنی گھاؤ بنی تو دل میں دھیان یہ آیا کہہ دیں آؤ بنی بن بن کر جو کھیل بگڑ جاتے ہیں ان کی بات نہیں کوئی جنازہ بھی یہ نہیں ہے اور کوئی بارات نہیں یہ اک ایسا دن ہے جس کے آگے پیچھے رات نہیں تہرے کی ہر تہہ میں یوں تو ایک نیا ہی چہرا ہے لیکن ہر ایک چہرا اس بن کھیلے کھیل کا مہرا ہے جس کا رنگ اکہرا ہے آگے بات بڑھائیں کیسے بات بنے تو بات بڑھے اب تک رنگ اکہرا تھا گر کوئی بڑھا تو ہاتھ بڑھے ہونی کی تو ریت یہی ہے چھوٹے دن کی رات بڑھے اب تو جو بھی بڑھنا چاہے اپنے ساتھ ہی ساتھ بڑھے آگے پیچھے دوڑ دوڑ کر اک آگے اک پیچھے ہے پیچھے والا کیسے بڑھے جب آگے والا بھی دوڑے دونوں چوٹ برابر کی ہیں یہ دونوں سے کون کہے ہار اور جیت اسی میں ہے اب کون رکے اور کون بڑھے

— میراجی

بغاوت نفس

زندگی محبوب ہے پھر بھی دعائیں موت کی مانگتا ہے دل مرا دن رات کیوں قسمت غم گیں کے ہونٹوں پر کبھی آ نہیں سکتی خوشی کی بات کیوں کیوں نگاہوں پر مری چھائے ہیں آنسو کے نقاب اس سوال مستقل کا کیوں نہیں ملتا جواب کیا خودی کی الجھنیں میرے ارادے توڑ کر کر رہی ہیں مجھ کو اس دنیا میں ناکام حیات کیوں نہیں آتی وہ رات جس کی خرم تر سحر آرزو ہے مجھ سے ہو اب ہم کلام راحتیں معدوم ہیں میرے تخیل سے تمام راستہ مجھ کو نظر آتا نہیں راستہ مجھ کو خوشی کا کیوں نظر آتا نہیں چل مرے دل آج اس محدود خلوت سے نکل ہاں سنبھل قعر خموشی میں نہ گر ہاں اب سنبھل بے خودی مسلک بنا لے بھول جا سب آج کل چھوڑ دے مرکز کی چاہت مضطرب ہو اور مچل سینۂ آتش فشاں کی طرح گرمی سے ابل چل مرے دل راستہ خوشیوں کا دیکھ اور شعلہ عیش کے لمحوں کا دیکھ دل گرفتہ آنسوؤں کو خشک کر دیکھ رستہ آنسوؤں کو خشک کر چھوڑ دے مرکز کی چاہت مضطرب ہو اور مچل چل مرے دل آج اس محدود خلوت سے نکل

— میراجی