میراجی

میر ملے تھے میرا جی سے باتوں سے ہم جان گئے میرا جی

29 January 2026

17سپیکرز
280لسنرز

سپیکرز

کریسنٹ کا پیش کردہ کلام

زندگی ختم ہوئی

زندگی ختم ہوئی جب تک اس دل میں رہا جوشِ جنوں تب تک اس دل کو میسر تھی حیات اب نہیں ، آہ نہیں ہے وہ بات زندگی ختم ہوئی ۔ اک دن تھا کہ محبت تھی مرے دل کے قریں تازگی ، ایسی تھی اک پھول تھا دل چاندنی رات کا نقشہ تھا تمام میں تھا اور ساتھ کوئی اور بھی تھا صحنِ گلشن میں تھا مستانہ خرام مری ہمدم کا تھا پیکر نغمہ اور میں خود بھی تھا یکسر نغمہ آنکھ بھی نغمہ ، منظر نغمہ کیسے لمحے تھے کہ حاصل مجھے گویائی تھی لیکن احساس کو حاصل نہیں اب گویائی کیوں چلی بادِ فنا ؟ مٹ گیا عشق کا پہلا نغمہ نکہتِ عشرتِ دل آوارہ اب نہیں ، آہ ! وہ منظر باقی تیر و تار ہے ، تاریک ہے رات اب نہیں ، آہ !نہیں ہے وہ بات زندگی ختم ہوئی ۔ یاس نے یاس نے آکے مرے دل کو کیا ہے زخمی چھین لی ، چھین ہی لی یاس نے راحت دل کی ۔ کس طرح لَوٹ کے اب آۓ گی حالت پہلی تیرہ و تاریک ہے تاریک ہے رات زندگی ختم ہوئی ۔

— میراجی

سوال

یہ سندرتا اتنے دنوں تک کس پردے میں چھپی ہوئی تھی ؟ آج آکاش بنا ہے سندر ، سندر چاند، ستارے سندر سندر پتِّے پھول اور ڈالی اور پھلواری سارے سندر سندر پنچھی کے رس والے میٹھے میٹھے پیارے نغمے آج صدائیں ندّی کی ہیں مُن کو ہلکے بھارے نغمے رات سہانی اور اندھیری، پیتم کے نینوں کا کاجل اب جیون کے ساتھی ہونگے ،سکھ سیجوں کے موہن منڈل آج بدل کر روپ منوہر دینا ہے مستی میں ناچی یہ سندرتا، اتنے دنوں تک کس پردے میں چھپی ہوئ تھی پریم کے میٹھے میٹھے رس والے جذبوں سے بوجھل جوبن تیز نگاہیں، ہونٹ کمانیں اور زلفوں کی زہری ناگن سانس، کسی خوشبو کی لہریں ، نرم،اچھوتی،ہلکی ہلکی سورگ سے آئی بھوکی لہریں ،گرم گرم سہانی بھینی بھینی پریم کا پنچھی ڈر سے جھجکتا رکتا رکتا چھپتا پھرتا پریم شکاری بے باکی سے ہنستے ہنستے آگے بڑھتا سکھ کی متوالی برساتیں ، سب جنموں کے گہرے بندھن پریمی او پریتم کی باتیں ، اندر سجا کے سورگ کا آنگن یہ سندرتا اتنے دنوں تک کس پردے میں چھپی ہوئی تھی؟

— میراجی