میراجی

میر ملے تھے میرا جی سے باتوں سے ہم جان گئے میرا جی

29 January 2026

17سپیکرز
280لسنرز

سپیکرز

راجا اکرام قمر کا پیش کردہ کلام

نگری نگری پھرا مسافر گھر کا رستا بھول گیا

نگری نگری پھرا مسافر گھر کا رستا بھول گیا کیا ہے تیرا کیا ہے میرا اپنا پرایا بھول گیا کیا بھولا کیسے بھولا کیوں پوچھتے ہو بس یوں سمجھو کارن دوش نہیں ہے کوئی بھولا بھالا بھول گیا کیسے دن تھے کیسی راتیں کیسی باتیں گھاتیں تھیں من بالک ہے پہلے پیار کا سندر سپنا بھول گیا اندھیارے سے ایک کرن نے جھانک کے دیکھا شرمائی دھندلی چھب تو یاد رہی کیسا تھا چہرہ بھول گیا یاد کے پھیر میں آ کر دل پر ایسی کاری چوٹ لگی دکھ میں سکھ ہے سکھ میں دکھ ہے بھید یہ نیارا بھول گیا ایک نظر کی ایک ہی پل کی بات ہے ڈوری سانسوں کی ایک نظر کا نور مٹا جب اک پل بیتا بھول گیا سوجھ بوجھ کی بات نہیں ہے من موجی ہے مستانہ لہر لہر سے جا سر پٹکا ساگر گہرا بھول گیا

— میراجی