میراجی

میر ملے تھے میرا جی سے باتوں سے ہم جان گئے میرا جی

29 January 2026

17سپیکرز
280لسنرز

سپیکرز

یادرفتگان کا پیش کردہ کلام

یگانگت

زمانے میں کوئی برائی نہیں ہے فقط اک تسلسل کا جھولا رواں ہے یہ میں کہہ رہا ہوں میں کوئی برائی نہیں ہوں زمانہ نہیں ہوں تسلسل کا جھولا نہیں ہوں مجھے کیا خبر کیا برائی میں ہے کیا زمانے میں ہے اور پھر میں تو یہ بھی کہوں گا کہ جو شے اکیلی رہے اس کی منزل فنا ہی فنا ہے برائی بھلائی زمانہ تسلسل یہ باتیں بقا کے گھرانے سے آئی ہوئی ہیں مجھے تو کسی بھی گھرانے سے کوئی تعلق نہیں ہے میں ہوں ایک اور میں اکیلا ہوں ایک اجنبی ہوں یہ بستی یہ جنگل یہ بہتے ہوئے رستے اور دریا یہ پربت اچانک نگاہوں میں آتی ہوئی کوئی اونچی عمارت یہ اجڑے ہوئے مقبرے اور مرگ مسلسل کی صورت مجاور یہ ہنستے ہوئے ننھے بچے یہ گاڑی سے ٹکرا کے مرتا ہوا ایک اندھا مسافر ہوائیں نباتات اور آسماں پر ادھر سے ادھر آتے جاتے ہوئے چند بادل یہ کیا ہیں یہی تو زمانہ ہے یہ ایک تسلسل کا جھولا رواں ہے یہ میں کہہ رہا ہوں یہ بستی یہ جنگل یہ رستے یہ دریا یہ پربت عمارت مجاور مسافر ہوائیں نباتات اور آسماں پر ادھر سے ادھر آتے جاتے ہوئے چند بادل یہ سب کچھ یہ ہر شے مرے ہی گھرانے سے آئی ہوئی ہے زمانہ ہوں میں میرے ہی دم سے ان مٹ تسلسل کا جھولا رواں ہے مگر مجھ میں کوئی برائی نہیں ہے یہ کیسے کہوں میں کہ مجھ میں فنا اور بقا دونوں آ کر ملے ہیں

— میراجی

دور کنارا

پھیلی دھرتی کے سینے پہ جنگل بھی ہیں لہلہاتے ہوئے اور دریا بھی ہیں دور جاتے ہوئے اور پربت بھی ہیں اپنی چپ میں مگن اور ساگر بھی ہیں جوش کھاتے ہوئے ان پہ چھایا ہوا نیلا آکاش ہے نیلے آکاش میں نور لاتے ہوئے دن کو سورج بھی ہے شام جانے پہ ہے چاند سے سامنا رات آنے پہ ننھے ستارے بھی ہیں جھلملاتے ہوئے اور کچھ بھی نہیں اب تک آئی نہ آئندہ تو آئے گی بس یہی بات ہے اور کچھ بھی نہیں ایک تو ایک میں دور ہی دور ہیں آج تک دور ہی دور ہر بات ہوتی رہی دور ہی دور جیون گزر جائے گا لہر سے لہر ٹکرائے کیسے کہو اور ساحل سے چھو جائے کیسے کہو لہر کو لہر سے دور کرتی ہوئی بیچ میں سینکڑوں اور لہریں بھی ہیں اور کچھ بھی نہیں چھائی مستی جو دل پر مرے بھول کی ایک ہی بات رہ رہ کے کہتا ہے ایک ہی دھیان کے درد میں دل کو لذت ملی آرزو کی کلی کب کھلی ایک ہی موج پر میں تو بہتا رہا اب تک آئی نہ آئندہ تو آئے گی چاہے دھرتی کے سینے پہ جنگل نہ ہوں چاہے پربت نہ ہوں چاہے دریا نہ ہوں چاہے ساگر نہ ہوں نیلے آکاش میں چاند تارے نہ ہوں کوئی سورج نہ ہو رات دن ہوں نہ دنیا میں شام و سحر کوئی پروا نہیں ایک ہی دھیان ہے دور ہی دور جیون گزر جائے گا اور کچھ بھی نہیں

— میراجی