سپیکرز
یادرفتگان کا پیش کردہ کلام
یگانگت
زمانے میں کوئی برائی نہیں ہے فقط اک تسلسل کا جھولا رواں ہے یہ میں کہہ رہا ہوں میں کوئی برائی نہیں ہوں زمانہ نہیں ہوں تسلسل کا جھولا نہیں ہوں مجھے کیا خبر کیا برائی میں ہے کیا زمانے میں ہے اور پھر میں تو یہ بھی کہوں گا کہ جو شے اکیلی رہے اس کی منزل فنا ہی فنا ہے برائی بھلائی زمانہ تسلسل یہ باتیں بقا کے گھرانے سے آئی ہوئی ہیں مجھے تو کسی بھی گھرانے سے کوئی تعلق نہیں ہے میں ہوں ایک اور میں اکیلا ہوں ایک اجنبی ہوں یہ بستی یہ جنگل یہ بہتے ہوئے رستے اور دریا یہ پربت اچانک نگاہوں میں آتی ہوئی کوئی اونچی عمارت یہ اجڑے ہوئے مقبرے اور مرگ مسلسل کی صورت مجاور یہ ہنستے ہوئے ننھے بچے یہ گاڑی سے ٹکرا کے مرتا ہوا ایک اندھا مسافر ہوائیں نباتات اور آسماں پر ادھر سے ادھر آتے جاتے ہوئے چند بادل یہ کیا ہیں یہی تو زمانہ ہے یہ ایک تسلسل کا جھولا رواں ہے یہ میں کہہ رہا ہوں یہ بستی یہ جنگل یہ رستے یہ دریا یہ پربت عمارت مجاور مسافر ہوائیں نباتات اور آسماں پر ادھر سے ادھر آتے جاتے ہوئے چند بادل یہ سب کچھ یہ ہر شے مرے ہی گھرانے سے آئی ہوئی ہے زمانہ ہوں میں میرے ہی دم سے ان مٹ تسلسل کا جھولا رواں ہے مگر مجھ میں کوئی برائی نہیں ہے یہ کیسے کہوں میں کہ مجھ میں فنا اور بقا دونوں آ کر ملے ہیں
دور کنارا
پھیلی دھرتی کے سینے پہ جنگل بھی ہیں لہلہاتے ہوئے اور دریا بھی ہیں دور جاتے ہوئے اور پربت بھی ہیں اپنی چپ میں مگن اور ساگر بھی ہیں جوش کھاتے ہوئے ان پہ چھایا ہوا نیلا آکاش ہے نیلے آکاش میں نور لاتے ہوئے دن کو سورج بھی ہے شام جانے پہ ہے چاند سے سامنا رات آنے پہ ننھے ستارے بھی ہیں جھلملاتے ہوئے اور کچھ بھی نہیں اب تک آئی نہ آئندہ تو آئے گی بس یہی بات ہے اور کچھ بھی نہیں ایک تو ایک میں دور ہی دور ہیں آج تک دور ہی دور ہر بات ہوتی رہی دور ہی دور جیون گزر جائے گا لہر سے لہر ٹکرائے کیسے کہو اور ساحل سے چھو جائے کیسے کہو لہر کو لہر سے دور کرتی ہوئی بیچ میں سینکڑوں اور لہریں بھی ہیں اور کچھ بھی نہیں چھائی مستی جو دل پر مرے بھول کی ایک ہی بات رہ رہ کے کہتا ہے ایک ہی دھیان کے درد میں دل کو لذت ملی آرزو کی کلی کب کھلی ایک ہی موج پر میں تو بہتا رہا اب تک آئی نہ آئندہ تو آئے گی چاہے دھرتی کے سینے پہ جنگل نہ ہوں چاہے پربت نہ ہوں چاہے دریا نہ ہوں چاہے ساگر نہ ہوں نیلے آکاش میں چاند تارے نہ ہوں کوئی سورج نہ ہو رات دن ہوں نہ دنیا میں شام و سحر کوئی پروا نہیں ایک ہی دھیان ہے دور ہی دور جیون گزر جائے گا اور کچھ بھی نہیں