میراجی

میر ملے تھے میرا جی سے باتوں سے ہم جان گئے میرا جی

29 January 2026

17سپیکرز
280لسنرز

سپیکرز

ثنا سوئٹ کا پیش کردہ کلام

کلرک کا نغمۂ محبت

سب رات مری سپنوں میں گزر جاتی ہے اور میں سوتا ہوں پھر صبح کی دیوی آتی ہے اپنے بستر سے اٹھتا ہوں منہ دھوتا ہوں لایا تھا کل جو ڈبل روٹی اس میں سے آدھی کھائی تھی باقی جو بچی وہ میرا آج کا ناشتہ ہے دنیا کے رنگ انوکھے ہیں جو میرے سامنے رہتا ہے اس کے گھر میں گھر والی ہے اور دائیں پہلو میں اک منزل کا ہے مکاں وہ خالی ہے اور بائیں جانب اک عیاش ہے جس کے ہاں اک داشتہ ہے اور ان سب میں اک میں بھی ہوں لیکن بس تو ہی نہیں ہیں اور تو سب آرام مجھے اک گیسوؤں کی خوشبو ہی نہیں فارغ ہوتا ہوں ناشتے سے اور اپنے گھر سے نکلتا ہوں دفتر کی راہ پر چلتا ہوں رستے میں شہر کی رونق ہے اک تانگہ ہے دو کاریں ہیں بچے مکتب کو جاتے ہیں اور تانگوں کی کیا بات کہوں کاریں تو چھچھلتی بجلی ہیں تانگوں کے تیروں کو کیسے سہوں یہ مانا ان میں شریفوں کے گھر کی دھن دولت ہے مایا ہے کچھ شوخ بھی ہیں معصوم بھی ہیں لیکن رستے پر پیدل مجھ سے بد قسمت مغموم بھی ہیں تانگوں پر برق تبسم ہے باتوں کا میٹھا ترنم ہے اکساتا ہے دھیان یہ رہ رہ کر قدرت کے دل میں ترحم ہے ہر چیز تو ہے موجود یہاں اک تو ہی نہیں اک تو ہی نہیں اور میری آنکھوں میں رونے کی ہمت ہی نہیں آنسو ہی نہیں جوں توں رستہ کٹ جاتا ہے اور بندی خانہ آتا ہے چل کام میں اپنے دل کو لگا یوں کوئی مجھے سمجھاتا ہے میں دھیرے دھیرے دفتر میں اپنے دل کو لے جاتا ہوں نادان ہے دل مورکھ بچہ اک اور طرح دے جاتا ہوں پھر کام کا دریا بہتا ہے اور ہوش مجھے کب رہتا ہے جب آدھا دن ڈھل جاتا ہے تو گھر سے افسر آتا ہے اور اپنے کمرے میں مجھ کو چپراسی سے بلواتا ہے یوں کہتا ہے ووں کہتا ہے لیکن بے کار ہی رہتا ہے میں اس کی ایسی باتوں سے تھک جاتا ہوں تھک جاتا ہوں پل بھر کے لیے اپنے کمرے کو فائل لینے آتا ہوں اور دل میں آگ سلگتی ہے میں بھی جو کوئی افسر ہوتا اس شہر کی دھول اور گلیوں سے کچھ دور مرا پھر گھر ہوتا اور تو ہوتی لیکن میں تو اک منشی ہوں تو اونچے گھر کی رانی ہے یہ میری پریم کہانی ہے اور دھرتی سے بھی پرانی ہے

— میراجی

مجھ کو تینوں یکساں ہیں

مجھ کو تینوں یکساں ہیں ​جب ہو مجھ کو عشق کسی سے ماہِ سیمیں، مہرِ زریں اور روئے دلدار مجھ کو تینوں یکساں ہیں ​عشق میں جب کامل ہو جاؤں آتشِ سوزاں، خارِ مغیلاں اور ہجرِ دلدار مجھ کو تینوں یکساں ہیں ​عشق میں جب بے خود ہو جاؤں شاہِ جہاں، علامۂ دوراں اور گدائے خوار مجھ کو تینوں یکساں ہیں ​جب میں اس کے گھر کو دیکھوں باغ و بستاں اور چراغاں اور اس کی دیوار مجھ کو تینوں یکساں ہیں ​جب میں اس دنیا سے جاؤں ایک بھکاری، ایک پجاری، ایک بڑا زردار مجھ کو تینوں یکساں ہیں​

— میراجی