میراجی

میر ملے تھے میرا جی سے باتوں سے ہم جان گئے میرا جی

29 January 2026

17سپیکرز
280لسنرز

سپیکرز

زاہدحسین کا پیش کردہ کلام

ہنسو تو ساتھ ہنسے گی دنیا بیٹھ اکیلے رونا ہوگا

ہنسو تو ساتھ ہنسے گی دنیا بیٹھ اکیلے رونا ہوگا چپکے چپکے بہا کر آنسو دل کے دکھ کو دھونا ہوگا بیرن ریت بڑی دنیا کی آنکھ سے جو بھی ٹپکا موتی پلکوں ہی سے اٹھانا ہوگا پلکوں ہی سے پرونا ہوگا کھونے اور پانے کا جیون نام رکھا ہے ہر کوئی جانے اس کا بھید کوئی نہ دیکھا کیا پانا کیا کھونا ہوگا بن چاہے بن بولے پل میں ٹوٹ پھوٹ کر پھر بن جائے بالک سوچ رہا ہے اب بھی ایسا کوئی کھلونا ہوگا پیاروں سے مل جائیں پیارے انہونی کب ہونی ہوگی کانٹے پھول بنیں گے کیسے کب سکھ سیج بچھونا ہوگا بہتے بہتے کام نہ آئے لاکھ بھنور طوفانی ساگر اب منجدھار میں اپنے ہاتھوں جیون ناؤ ڈبونا ہوگا جو بھی دل نے بھول میں چاہا بھول میں جانا ہو کے رہے گا سوچ سوچ کر ہوا نہ کچھ بھی آؤ اب تو کھونا ہوگا کیوں جیتے جی ہمت ہاریں کیوں فریادیں کیوں یہ پکاریں ہوتے ہوتے ہو جائے گا آخر جو بھی ہونا ہوگا میراجیؔ کیوں سوچ ستائے پلک پلک ڈوری لہرائے قسمت جو بھی رنگ دکھائے اپنے دل میں سمونا ہوگا

— میراجی

لذّت شام، شبِ ہجر خدا داد نہیں

لذّت شام، شبِ ہجر خدا داد نہیں اِس سے بڑھ کر ہمیں رازِ غمِ دل یاد نہیں کیفیت خانہ بدوشانِ چمن کی مت پُوچھ یہ وہ گُلہائے شگفتہ ہیں جو برباد نہیں یک ہمہ حُسنِ طلب، یک ہمہ جانِ نغمہ تم جو بیداد نہیں ہم بھی تو فریاد نہیں زندگی سیلِ تن آساں کی فراوانی ہے زندگی نقش گرِ خاطرِ ناشاد نہیں اُن کی ہر اِک نگہ آموختۂ عکسِ نشاط ہر قدم گرچہ مجھے سیلیِ استاد نہیں دیکھتے دیکھتے ہر چیز مٹی جاتی ہے جنّتِ حُسنِ نفَس و جنّتِ شدّاد نہیں ہر جگہ حُسنِ فزوں اپنی مہک دیتا ہے باعثِ زینتِ گُل تو قدِ شمشاد نہیں خانہ سازانِ عناصر سے یہ کوئی کہہ دے پُرسکوں آبِ رواں، نوحہ کناں باد نہیں​

— میراجی