خمار بارہ بنکوی

قسطوں میں خود کشی کا مزہ ہم سے پوچھیے (خمار بارہ بنکوی)

02 January 2026

13سپیکرز
240لسنرز

سپیکرز

فائیٹر کا پیش کردہ کلام

تو چاہئے نہ تیری وفا چاہئے مجھے

تو چاہئے نہ تیری وفا چاہئے مجھے کچھ بھی نہ تیرے غم کے سوا چاہئے مجھے مرنے سے پہلے شکل ہی اک بار دیکھ لوں اے موت زندگی کا پتا چاہئے مجھے یا رب معاف کر کے نہ دے کرب انفعال میں نے خطائیں کی ہیں سزا چاہئے مجھے خاموشئ حیات سے اکتا گیا ہوں میں اب چاہے دل ہی ٹوٹے صدا چاہئے مجھے ان مست مست آنکھوں میں آنسو ارے غضب یہ عشق ہے تو قہر خدا چاہئے مجھے ناصح نصیحتوں کا زمانہ گزر گیا اب پیارے صرف تیری دعا چاہئے مجھے ہر درد کو دوا کی ضرورت ہے اے خمارؔ جو درد خود ہو اپنی دوا چاہئے مجھے

— خمار بارہ بنکوی

کبھی جو میں نے مسرت کا اہتمام کیا

کبھی جو میں نے مسرت کا اہتمام کیا بڑے تپاک سے غم نے مجھے سلام کیا ہزار ترک تعلق کا اہتمام کیا مگر جہاں وہ ملے دل نے اپنا کام کیا زمانے والوں کے ڈر سے اٹھا نہ ہاتھ مگر نظر سے اس نے بصد معذرت سلام کیا کبھی ہنسے کبھی آہیں بھریں کبھی روئے بقدر مرتبہ ہر غم کا احترام کیا ہمارے حصے کی مے کام آئے پیاسوں کے ز راہ خیر گناہ شکست جام کیا طلوع مہر سے بھی گھر کی تیرگی نہ گھٹی اک اور شب کٹی یا میں نے دن تمام کیا دعا یہ ہے نہ ہوں گمراہ ہم سفر میرے خمارؔ میں نے تو اپنا سفر تمام کیا

— خمار بارہ بنکوی