سپیکرز
فائیٹر کا پیش کردہ کلام
تو چاہئے نہ تیری وفا چاہئے مجھے
تو چاہئے نہ تیری وفا چاہئے مجھے کچھ بھی نہ تیرے غم کے سوا چاہئے مجھے مرنے سے پہلے شکل ہی اک بار دیکھ لوں اے موت زندگی کا پتا چاہئے مجھے یا رب معاف کر کے نہ دے کرب انفعال میں نے خطائیں کی ہیں سزا چاہئے مجھے خاموشئ حیات سے اکتا گیا ہوں میں اب چاہے دل ہی ٹوٹے صدا چاہئے مجھے ان مست مست آنکھوں میں آنسو ارے غضب یہ عشق ہے تو قہر خدا چاہئے مجھے ناصح نصیحتوں کا زمانہ گزر گیا اب پیارے صرف تیری دعا چاہئے مجھے ہر درد کو دوا کی ضرورت ہے اے خمارؔ جو درد خود ہو اپنی دوا چاہئے مجھے
کبھی جو میں نے مسرت کا اہتمام کیا
کبھی جو میں نے مسرت کا اہتمام کیا بڑے تپاک سے غم نے مجھے سلام کیا ہزار ترک تعلق کا اہتمام کیا مگر جہاں وہ ملے دل نے اپنا کام کیا زمانے والوں کے ڈر سے اٹھا نہ ہاتھ مگر نظر سے اس نے بصد معذرت سلام کیا کبھی ہنسے کبھی آہیں بھریں کبھی روئے بقدر مرتبہ ہر غم کا احترام کیا ہمارے حصے کی مے کام آئے پیاسوں کے ز راہ خیر گناہ شکست جام کیا طلوع مہر سے بھی گھر کی تیرگی نہ گھٹی اک اور شب کٹی یا میں نے دن تمام کیا دعا یہ ہے نہ ہوں گمراہ ہم سفر میرے خمارؔ میں نے تو اپنا سفر تمام کیا