سپیکرز
ایمان کا پیش کردہ کلام
کبھی شعر و نغمہ بن کے کبھی آنسوؤں میں ڈھل کے
کبھی شعر و نغمہ بن کے کبھی آنسوؤں میں ڈھل کے وہ مجھے ملے تو لیکن ملے صورتیں بدل کے یہ وفا کی سخت راہیں یہ تمہارے پائے نازک نہ لو انتقام مجھ سے مرے ساتھ ساتھ چل کے وہی آنکھ بے بہا ہے جو غم جہاں میں ڈوبے وہی جام جام جم ہے جو بغیر فرق چھلکے نہ تو ہوش سے تعارف نہ جنوں سے آشنائی یہ کہاں پہنچ گئے ہم تری بزم سے نکل کے یہ چراغ انجمن تو ہیں بس ایک شب کے مہماں تو جلا وہ شمع اے دل جو بجھے کبھی نہ جل کے کوئی اے خمارؔ ان کو مرے شعر نذر کر دے جو مخالفین مخلص نہیں معترف غزل کے
ہوش زدہ نادان سے ڈر
ہوش زدہ نادان سے ڈر بات سمجھ انسان سے ڈر ترک محبت بھی ہے فریب ٹھہرے ہوئے طوفان سے ڈر راہ جنوں ہے راہ نجات کفر سے بھاگ ایمان سے ڈر دوری و قربت کچھ بھی نہیں عشق میں اطمینان سے ڈر موت بھی اتنی تلخ نہیں دوستوں کے احسان سے ڈر ایک تبسم کم نہ سمجھ آنسوؤں کے طوفان سے ڈر ہونٹھ ہنسیں دل روئے خمارؔ عشق کی جھوٹی شان سے ڈر
مجھ کو یہ جان و دل قبول نغمے کو نغمہ ہی سمجھ
مجھ کو یہ جان و دل قبول نغمے کو نغمہ ہی سمجھ ساز یہ بیتتی ہے کیا یہ بھی کبھی کبھی سمجھ عشق ہے تشنگی کا نام توڑ دے گر ملے بھی جام شدت تشنگی نہ دیکھ لذت تشنگی سمجھ حسن کی مہربانیاں عشق کے حق میں زہر ہیں حسن کے اجتناب تک عشق کی زندگی سمجھ ترک تعلقات بھی عین تعلقات ہے آگ بجھی ہوئی نہ جان آگ دبی ہوئی سمجھ عقل کے کاروبار میں دل کو بھی رکھ شریک کار دل کے معاملات میں عقل کو اجنبی سمجھ غنچہ و گل کے ساتھ ساتھ دل کی طرف بھی اک نظر شیفتۂ شگفتگی وجہ شگفتگی سمجھ ایسے بھی راز ہیں خمارؔ ہوتے نہیں جو آشکار اپنی ہی مشکلیں نہ دیکھ ان کی بھی بے بسی سمجھ