خمار بارہ بنکوی

قسطوں میں خود کشی کا مزہ ہم سے پوچھیے (خمار بارہ بنکوی)

02 January 2026

13سپیکرز
240لسنرز

سپیکرز

ایم سعید کا پیش کردہ کلام

ہم انہیں وہ ہمیں بھلا بیٹھے

ہم انہیں وہ ہمیں بھلا بیٹھے دو گنہ گار زہر کھا بیٹھے حال غم کہہ کے غم بڑھا بیٹھے تیر مارے تھے تیر کھا بیٹھے آندھیو جاؤ اب کرو آرام ہم خود اپنا دیا بجھا بیٹھے جی تو ہلکا ہوا مگر یارو رو کے ہم لطف غم گنوا بیٹھے بے سہاروں کا حوصلہ ہی کیا گھر میں گھبرائے در پہ آ بیٹھے جب سے بچھڑے وہ مسکرائے نہ ہم سب نے چھیڑا تو لب ہلا بیٹھے ہم رہے مبتلائے دیر و حرم وہ دبے پاؤں دل میں آ بیٹھے اٹھ کے اک بے وفا نے دے دی جان رہ گئے سارے با وفا بیٹھے حشر کا دن ابھی ہے دور خمارؔ آپ کیوں زاہدوں میں جا بیٹھے

— خمار بارہ بنکوی