خمار بارہ بنکوی

قسطوں میں خود کشی کا مزہ ہم سے پوچھیے (خمار بارہ بنکوی)

02 January 2026

13سپیکرز
240لسنرز

سپیکرز

امل خان کا پیش کردہ کلام

جھنجھلائے ہیں لجائے ہیں پھر مسکرائے ہیں

جھنجھلائے ہیں لجائے ہیں پھر مسکرائے ہیں کس اہتمام سے انہیں ہم یاد آئے ہیں دیر و حرم کے حبس کدوں کے ستائے ہیں ہم آج مے کدے کی ہوا کھانے آئے ہیں اب جا کے آہ کرنے کے آداب آئے ہیں دنیا سمجھ رہی ہے کہ ہم مسکرائے ہیں گزرے ہیں مے کدے سے جو توبہ کے بعد ہم کچھ دور عادتاً بھی قدم لڑکھڑائے ہیں اے جوش گریہ دیکھ نہ کرنا خجل مجھے آنکھیں مری ضرور ہیں آنسو پرائے ہیں اے موت اے بہشت سکوں آ خوش آمدید ہم زندگی میں پہلے پہل مسکرائے ہیں جتنی بھی مے کدے میں ہے ساقی پلا دے آج ہم تشنہ کام زہد کے صحرا سے آئے ہیں انسان جیتے جی کریں توبہ خطاؤں سے مجبوریوں نے کتنے فرشتے بنائے ہیں سمجھاتے قبل عشق تو ممکن تھا بنتی بات ناصح غریب اب ہمیں سمجھانے آئے ہیں کعبے میں خیریت تو ہے سب حضرت خمارؔ یہ دیر ہے جناب یہاں کیسے آئے ہیں

— خمار بارہ بنکوی

آنکھوں کے چراغوں میں اجالے نہ رہیں گے

آنکھوں کے چراغوں میں اجالے نہ رہیں گے آ جاؤ کہ پھر دیکھنے والے نہ رہیں گے جا شوق سے لیکن پلٹ آنے کے لیے جا ہم دیر تلک خود کو سنبھالے نہ رہیں گے اے ذوق سفر خیر ہو نزدیک ہے منزل سب کہتے ہیں اب پاؤں میں چھالے نہ رہیں گے جن نالوں کی ہو جائے گی تا دوست رسائی وہ سانحے بن جائیں گے نالہ نہ رہیں گے میں توبہ تو کر لوں مگر اک بات ہے واعظ کیا آج سے گردش میں پیالے نہ رہیں گے کیوں ظلمت غم ث ہو خمارؔ اتنے پریشان بادل یہ ہمیشہ ہی تو کالے نہ رہیں گے

— خمار بارہ بنکوی