خمار بارہ بنکوی

قسطوں میں خود کشی کا مزہ ہم سے پوچھیے (خمار بارہ بنکوی)

02 January 2026

13سپیکرز
240لسنرز

سپیکرز

ندیم بخاری کا پیش کردہ کلام

یہ مصرع نہیں ہے وظیفہ مرا ہے

یہ مصرع نہیں ہے وظیفہ مرا ہے خدا ہے محبت محبت خدا ہے کہوں کس طرح میں کہ وہ بے وفا ہے مجھے اس کی مجبوریوں کا پتا ہے ہوا کو بہت سرکشی کا نشہ ہے مگر یہ نہ بھولے دیا بھی دیا ہے میں اس سے جدا ہوں وہ مجھ سے جدا ہے محبت کے ماروں پہ فضل خدا ہے نظر میں ہے جلتے مکانوں کا منظر چمکتے ہیں جگنو تو دل کانپتا ہے انہیں بھولنا یا انہیں یاد کرنا وہ بچھڑے ہیں جب سے یہی مشغلہ ہے گزرتا ہے ہر شخص چہرہ چھپائے کوئی راہ میں آئینہ رکھ گیا ہے بڑی جان لیوا ہیں ماضی کی یادیں بھلانے کو جی بھی نہیں چاہتا ہے کہاں تو خمارؔ اور کہاں کفر توبہ تجھے پارساؤں نے بہکا دیا ہے

— خمار بارہ بنکوی

حسن جب مہرباں ہو تو کیا کیجیے

حسن جب مہرباں ہو تو کیا کیجیے عشق کے مغفرت کی دعا کیجیے اس سلیقے سے ان سے گلہ کیجیے جب گلہ کیجیے ہنس دیا کیجیے دوسروں پر اگر تبصرہ کیجیے سامنے آئنہ رکھ لیا کیجیے آپ سکھ سے ہیں ترک تعلق کے بعد اتنی جلدی نہ یہ فیصلہ کیجیے زندگی کٹ رہی ہے بڑے چین سے اور غم ہوں تو وہ بھی عطا کیجیے کوئی دھوکا نہ کھا جائے میری طرح ایسے کھل کے نہ سب سے ملا کیجیے عقل و دل اپنی اپنی کہیں جب خمارؔ عقل کی سنئے دل کا کہا کیجیے

— خمار بارہ بنکوی