سپیکرز
ندیم بخاری کا پیش کردہ کلام
یہ مصرع نہیں ہے وظیفہ مرا ہے
یہ مصرع نہیں ہے وظیفہ مرا ہے خدا ہے محبت محبت خدا ہے کہوں کس طرح میں کہ وہ بے وفا ہے مجھے اس کی مجبوریوں کا پتا ہے ہوا کو بہت سرکشی کا نشہ ہے مگر یہ نہ بھولے دیا بھی دیا ہے میں اس سے جدا ہوں وہ مجھ سے جدا ہے محبت کے ماروں پہ فضل خدا ہے نظر میں ہے جلتے مکانوں کا منظر چمکتے ہیں جگنو تو دل کانپتا ہے انہیں بھولنا یا انہیں یاد کرنا وہ بچھڑے ہیں جب سے یہی مشغلہ ہے گزرتا ہے ہر شخص چہرہ چھپائے کوئی راہ میں آئینہ رکھ گیا ہے بڑی جان لیوا ہیں ماضی کی یادیں بھلانے کو جی بھی نہیں چاہتا ہے کہاں تو خمارؔ اور کہاں کفر توبہ تجھے پارساؤں نے بہکا دیا ہے
حسن جب مہرباں ہو تو کیا کیجیے
حسن جب مہرباں ہو تو کیا کیجیے عشق کے مغفرت کی دعا کیجیے اس سلیقے سے ان سے گلہ کیجیے جب گلہ کیجیے ہنس دیا کیجیے دوسروں پر اگر تبصرہ کیجیے سامنے آئنہ رکھ لیا کیجیے آپ سکھ سے ہیں ترک تعلق کے بعد اتنی جلدی نہ یہ فیصلہ کیجیے زندگی کٹ رہی ہے بڑے چین سے اور غم ہوں تو وہ بھی عطا کیجیے کوئی دھوکا نہ کھا جائے میری طرح ایسے کھل کے نہ سب سے ملا کیجیے عقل و دل اپنی اپنی کہیں جب خمارؔ عقل کی سنئے دل کا کہا کیجیے