خمار بارہ بنکوی

قسطوں میں خود کشی کا مزہ ہم سے پوچھیے (خمار بارہ بنکوی)

02 January 2026

13سپیکرز
240لسنرز

سپیکرز

نور مائیر کا پیش کردہ کلام

ایسا نہیں کہ ان سے محبت نہیں رہی

ایسا نہیں کہ ان سے محبت نہیں رہی جذبات میں وہ پہلی سی شدت نہیں رہی ضعف قویٰ نے آمد پیری کی دی نوید وہ دل نہیں رہا وہ طبیعت نہیں رہی سر میں وہ انتظار کا سودا نہیں رہا دل پر وہ دھڑکنوں کی حکومت نہیں رہی کمزوریٔ نگاہ نے سنجیدہ کر دیا جلووں سے چھیڑ چھاڑ کی عادت نہیں رہی ہاتھوں سے انتقام لیا ارتعاش نے دامان یار سے کوئی نسبت نہیں رہی پیہم طواف کوچۂ جاناں کے دن گئے پیروں میں چلنے پھرنے کی طاقت نہیں رہی چہرے کو جھریوں نے بھیانک بنا دیا آئینہ دیکھنے کی بھی ہمت نہیں رہی اللہ جانے موت کہاں مر گئی خمارؔ اب مجھ کو زندگی کی ضرورت نہیں رہی

— خمار بارہ بنکوی