خمار بارہ بنکوی

قسطوں میں خود کشی کا مزہ ہم سے پوچھیے (خمار بارہ بنکوی)

02 January 2026

13سپیکرز
240لسنرز

سپیکرز

نایاب کا پیش کردہ کلام

اک پل میں اک صدی کا مزا ہم سے پوچھئے

اک پل میں اک صدی کا مزا ہم سے پوچھئے دو دن کی زندگی کا مزا ہم سے پوچھئے بھولے ہیں رفتہ رفتہ انہیں مدتوں میں ہم قسطوں میں خودکشی کا مزا ہم سے پوچھئے آغاز عاشقی کا مزا آپ جانئے انجام عاشقی کا مزا ہم سے پوچھئے جلتے دیوں میں جلتے گھروں جیسی ضو کہاں سرکار روشنی کا مزا ہم سے پوچھئے وہ جان ہی گئے کہ ہمیں ان سے پیار ہے آنکھوں کی مخبری کا مزا ہم سے پوچھئے ہنسنے کا شوق ہم کو بھی تھا آپ کی طرح ہنسئے مگر ہنسی کا مزا ہم سے پوچھئے ہم توبہ کر کے مر گئے بے موت اے خمارؔ توہین مے کشی کا مزا ہم سے پوچھئے

— خمار بارہ بنکوی