ناشاد کانپوری

ذرا تم مسکرا تو دو کہ رنگ آسماں بدلے ناشاد کانپوری

28 April 2026

17سپیکرز
150لسنرز

سپیکرز

پرشانت کا پیش کردہ کلام

دل کو غم سے حذر نہ ہو جائے

دل کو غم سے حذر نہ ہو جائے زندگی درد سر نہ ہو جائے غم محبت اثر نہ ہو جائے بے خبر باخبر نہ ہو جائے جا ہی پہنچیں ہم اس کے کوچے میں عقل اگر راہ بر نہ ہو جائے ناامیدی بھی ساتھ چھوڑ نہ دے دل بھی مفلس کا گھر نہ ہو جائے دل کے داغوں کو تازہ کرنا ہے شب غم کی سحر نہ ہو جائے حال ناشادؔ کیا کہے کوئی کہیں تم پر اثر نہ ہو جائے

— ناشاد کانپوری