ناشاد کانپوری

ذرا تم مسکرا تو دو کہ رنگ آسماں بدلے ناشاد کانپوری

28 April 2026

17سپیکرز
150لسنرز

سپیکرز

امل خان کا پیش کردہ کلام

خوشا نصیب کہ ہے دل میں آرزو تیری

خوشا نصیب کہ ہے دل میں آرزو تیری مشام جاں ہے معطر بسی ہے بو تیری وہ اور ہوں گے جنہیں ہے نجات کی خواہش شہید حسن ازل کو ہے آرزو تیری غرض ہر ایک کو تیرا ہی خوشہ چیں پایا گلوں نے رنگ اڑایا صبا نے بو تیری ترے جمال کا کچھ ایسا رعب طاری تھا صبا بھی چھو نہ سکی زلف مشکبو تیری فریب خوردۂ دیوار و در نہیں ناشادؔ کرے وہ دیر میں کیوں جا کے جستجو تیری

— ناشاد کانپوری