ناشاد کانپوری

ذرا تم مسکرا تو دو کہ رنگ آسماں بدلے ناشاد کانپوری

28 April 2026

17سپیکرز
150لسنرز

سپیکرز

شہزاد کا پیش کردہ کلام

اب تو وہ مائل جفا بھی نہیں

اب تو وہ مائل جفا بھی نہیں دل مرا ان کو بھولتا بھی نہیں نگۂ ناز کہہ گئی سب کچھ اور کہنے کو کچھ کہا بھی نہیں کون لائے گا تاب لطف و کرم دل تو شائستۂ جفا بھی نہیں یاد تو تیری خیر کیا کرتے بھول ہی جاتے یہ ہوا بھی نہیں جانے کیوں جی رہے ہیں اہل وفا آسرا سا کچھ آسرا بھی نہیں یوں تو پیتا نہیں کبھی ناشادؔ تم پلاؤ تو پارسا بھی نہیں

— ناشاد کانپوری