ناشاد کانپوری

ذرا تم مسکرا تو دو کہ رنگ آسماں بدلے ناشاد کانپوری

28 April 2026

17سپیکرز
150لسنرز

سپیکرز

ایم سعید کا پیش کردہ کلام

آپ کی یاد عمر بھر آئی

آپ کی یاد عمر بھر آئی ہم بھلایا کئے مگر آئی دل کی ہر چوٹ پھر ابھر آئی دیکھ کر ان کو آنکھ بھر آئی کس نے تم کو بھلا دیا پیارے آئی یاد اور عمر بھر آئی جب کسی مہرباں نے پوچھا حال دل دھڑک اٹھا آنکھ بھر آئی لاکھ اخفائے غم کرو گے مگر کیا کرو گے جو آنکھ بھر آئی کر تو لیں ہم شراب سے توبہ پھر طبیعت جو راہ پر آئی تاب غم لائے کس کا تھا یہ جگر یہ بلا عاشقوں کے سر آئی کیوں قدم ڈگمگائے جاتے ہیں ہم سفر کس کی رہ گزر آئی سن کے ناشادؔ پیار کی باتیں یاد کیا آئی آنکھ بھر آئی

— ناشاد کانپوری