کلامِ شاعر
- 01 آج یوں موسم نے دی جشن محبت کی خبر
- 02 ہوش والوں پہ وہ کچھ ایسا فسوں کرتا تھا
- 03 ہم نے نیکی کا کوئی کام کیا ہو گا وصی
- 04 کاش میں تیرے حسین ہاتھ کا کنگن ہوتا
- 05 یہ کامیابیاں عزت یہ نام تم سے ہے
- 06 خدا ہی جانے کہ ان کی سزائیں کیا ہوں گی
- 07 دلِ مکار کو مکار پکارا جائے
- 08 اب جو لوٹے ہو اتنے سالوں میں
- 09 ایک دوجے کو بوڑھا ہوتے دیکھا ہے
- 10 اس نے بالوں میں جو اک پھول لگایا ہوا ہے
- 11 سنگ دل ایسا کہ ہاں کرتا نہ ہوں کرتا تھا
- 12 جبرکا موسم کب بدلے گا ہم بدلیں گے تب بدلے گا
- 13 کنگن
- 14 اب جو لوٹے ہو اتنے سالوں میں
- 15 تم سے پوچھا نہ گیا ھم سے بتایا نہ گیا
- 16 جب رات کی ناگن ڈستی ہے
- 17 کتنی زلفیں اڑیں کتنے آنچل اڑے چاند کو کیا خبر
- 18 جب غم میری دھڑکن مری باتوں سے عیاں تھا تو کہاں تھا
- 19 تیری یادوں سے کیا نہیں سیکھا
- 20 تم میرے درد بھی، غم بھی، مرے آلام بھی تم
- 21 جو میری آنکھوں سے خواب دیکھو
- 22 اب کوئی یار ہے نہ بیلی ہے
- 23 درد کی دل پہ حکومت تھی، کہاں تھا اُس وقت
- 24 ہزاروں دکھ پڑیں سہنا محبت مر نہیں سکتی
- 25 ابھی تو عشق میں ایسا بھی حال ہونا ہے
- 26 گر پیادہ بھی کوئی جیت کے نکلا تو تِرا
- 27 جان سے مار دے مجھے لیکن
- 28 یہ بھی ممکن ہے کسی روز نہ پہچانوں اُسے
- 29 کبھی یوں بھی تو ہو
- 30 مگر یہ طے ہے کہ میں اس کے غم میں رہتا ہوں
- 31 دیار غیر میں کیسے تجھے صدا دیتے
- 32 ترے فراق کے لمحے شمار کرتے ہوئے
- 33 دل کی چوکھٹ پہ جو اک دیپ جلا رکھا ہے
- 34 ایمان
- 35 اس کی آنکھوں میں محبت کا ستارہ ہوگا
- 36 باندھ لیں ہاتھ پہ سینے پہ سجا لیں تم کو
- 37 سمندر میں اترتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں
- 38 آنکھوں سے مری اس لیے لالی نہیں جاتی
- 39 یہ کامیابیاں عزت یہ نام تم سے ہے
- 40 کسی کی آنکھ سے سپنے چرا کر کچھ نہیں ملتا
- 41 اپنے احساس سے چھو کر مجھے صندل کر دو