باقی صدیقی

ہے بولنا بھی رسم جہاں بولتے رہو باقی صدیقی

25 January 2026

19سپیکرز
310لسنرز

سپیکرز

سید جینٹلمین کا پیش کردہ کلام

دل کے لیے حیات کا پیغام بن گئیں

دل کے لیے حیات کا پیغام بن گئیں بے تابیاں سمٹ کے ترا نام بن گئیں کچھ لغزشوں سے کام جہاں کے سنور گئے کچھ جرأتیں حیات پر الزام بن گئیں ہر چند وہ نگاہیں ہمارے لیے نہ تھیں پھر بھی حریف گردش ایام بن گئیں آنے لگا حیات کو انجام کا خیال جب آرزوئیں پھیل کے اک دام بن گئیں کچھ کم نہیں جہاں سے جہاں کی مسرتیں جب پاس آئیں دشمن آرام بن گئیں باقیؔ جہاں کرے گا مری مے کشی پہ رشک ان کی حسیں نگاہیں اگر جام بن گئیں

— باقی صدیقی

تری نگاہ کا انداز کیا نظر آیا

تری نگاہ کا انداز کیا نظر آیا درخت سے ہمیں سایہ جدا نظر آیا بہت قریب سے آواز ایک آئی تھی مگر چلے تو بڑا فاصلہ نظر آیا یہ راستے کی لکیریں بھی گم نہ ہو جائیں وہ جھاڑیوں کا نیا سلسلہ نظر آیا یہ روشنی کی کرن ہے کہ آگ کا شعلہ ہر ایک گھر مجھے جلتا ہوا نظر آیا کلی کلی کی صدا گونجنے لگی دل میں جہاں بھی کوئی چمن آشنا نظر آیا سنو تو کس لیے پتھر اٹھائے پھرتے ہو کہو تو آئینہ خانے میں کیا نظر آیا یہ دوپہر یہ پگھلتی ہوئی سڑک باقیؔ ہر ایک شخص پھسلتا ہوا نظر آیا

— باقی صدیقی