سپیکرز
سید جینٹلمین کا پیش کردہ کلام
دل کے لیے حیات کا پیغام بن گئیں
دل کے لیے حیات کا پیغام بن گئیں بے تابیاں سمٹ کے ترا نام بن گئیں کچھ لغزشوں سے کام جہاں کے سنور گئے کچھ جرأتیں حیات پر الزام بن گئیں ہر چند وہ نگاہیں ہمارے لیے نہ تھیں پھر بھی حریف گردش ایام بن گئیں آنے لگا حیات کو انجام کا خیال جب آرزوئیں پھیل کے اک دام بن گئیں کچھ کم نہیں جہاں سے جہاں کی مسرتیں جب پاس آئیں دشمن آرام بن گئیں باقیؔ جہاں کرے گا مری مے کشی پہ رشک ان کی حسیں نگاہیں اگر جام بن گئیں
تری نگاہ کا انداز کیا نظر آیا
تری نگاہ کا انداز کیا نظر آیا درخت سے ہمیں سایہ جدا نظر آیا بہت قریب سے آواز ایک آئی تھی مگر چلے تو بڑا فاصلہ نظر آیا یہ راستے کی لکیریں بھی گم نہ ہو جائیں وہ جھاڑیوں کا نیا سلسلہ نظر آیا یہ روشنی کی کرن ہے کہ آگ کا شعلہ ہر ایک گھر مجھے جلتا ہوا نظر آیا کلی کلی کی صدا گونجنے لگی دل میں جہاں بھی کوئی چمن آشنا نظر آیا سنو تو کس لیے پتھر اٹھائے پھرتے ہو کہو تو آئینہ خانے میں کیا نظر آیا یہ دوپہر یہ پگھلتی ہوئی سڑک باقیؔ ہر ایک شخص پھسلتا ہوا نظر آیا