سپیکرز
شہزاد کا پیش کردہ کلام
باتیں تو شنو ، ذوق خریدار تو دیکھو
باتیں تو شنو ، ذوق خریدار تو دیکھو در چار گھڑی رونق بازار تو دیکھو تم دُھوپ سے گھبرا کے کہاں بیٹھ گئے ہو سایہ کہیں ڈھونڈو کوئی دیوار تو دیکھو طوفان کا ہم پر تو اثر کچھ نہیں لیکن راہوں میں یہ ٹوٹے ہوئے انبار تو دیکھو مقتل سے گزرنے لگی گی راہ ہوس بھی ہر لب پر یہ ذکر رسن و دار تو دیکھو توقیر نفس کی کوئی آواز نہیں کیا گردن سے یہ لیٹی ہوئی دستار تو دیکھو ہر بات پر لے بیٹھتے ہیں اپنا فسانہ دوست یہ ہمدرد یہ غم خوار تو دیکھو یہ موج تبسم میں کسک درد کی باقی یہ سلسلۂ رنگ گل رخسار تو دیکھو
تیرے افسانے سناتے ہیں مجھے
تیرے افسانے سناتے ہیں مجھے لوگ اب بھولتے جاتے ہیں مجھے قمقمے تھے بزمِ طرب کے جاگے رنگ کیا کیا نظر آتے ہیں مجھے میں کسی بات کا پردہ ہوں کہ لوگ تیری محفل سے اُٹھاتے ہیں مجھے زخم آئینہ بنے جاتے ہیں حادثے سامنے لاتے ہیں مجھے نیند بھی ایک ادا ہے تیری رات بھر خواب جگاتے ہیں مجھے تیرے کوچے سے گزرنے والے کتنے اونچے نظر آتے ہیں مجھے ان کے بگڑے ہوئے تیور باقی زیست کی یاد دلاتے ہیں مجھے