باقی صدیقی

ہے بولنا بھی رسم جہاں بولتے رہو باقی صدیقی

25 January 2026

19سپیکرز
310لسنرز

سپیکرز

راجا اکرام قمر کا پیش کردہ کلام

زندگی دل کا سکوں چاہتی ہے

زندگی دل کا سکوں چاہتی ہے رونق شہر سبا کیا دیکھیں کھوکھلے قہقہے پھیکی باتیں زیست کو زیست نما کیا دیکھیں زخم آواز ہی آئینہ ہے صورت نغمہ سرا کیا دیکھیں قہر دریا کا تقاضا معلوم ہم حبابوں کے سوا کیا دیکھیں سانس کلیوں کا رکا جاتا ہے شوخی موج صبا کیا دیکھیں دل ہے دیوار، نظر ہے پردہ دیکھنے والے بھلا کیا دیکھیں ایک عالم ہے غبار آلودہ جانے والے کی ادا کیا دیکھیں زندگی بھاگ رہی ہے باقیؔ شوق کو آبلہ پا کیا دیکھیں

— باقی صدیقی

رنگ دل رنگ نظر یاد آیا

رنگ دل رنگ نظر یاد آیا تیرے جلووں کا اثر یاد آیا وہ نظر بن گئی پیغام حیات حلقۂ شام و سحر یاد آیا یہ زمانہ یہ دل دیوانہ رشتۂ سنگ و گہر یاد آیا یہ نیا شہر یہ روشن راہیں اپنا انداز سفر یاد آیا راہ کا روپ بنی دھوپ اپنی کوئی سایہ نہ شجر یاد آیا کب نہ اس شہر میں پتھر برسے کب نہ اس شہر میں سر یاد آیا گھر میں تھا دشت نوردی کا خیال دشت میں آئے تو گھر یاد آیا گرد اڑتی ہے سر راہ خیال دل ناداں کا سفر یاد آیا ایک ہنستی ہوئی بدلی دیکھی ایک جلتا ہوا گھر یاد آیا اس طرح شام کے سائے پھیلے رات کا پچھلا پہر یاد آیا پھر چلے گھر سے تماشا بن کر پھر ترا روزن در یاد آیا کسی پتھر کی حقیقت ہی کیا دل کا آئینہ مگر یاد آیا آنچ دامان صبا سے آئی اعتبار گل تر یاد آیا دل جلا دھوپ میں ایسا اب کے پاؤں یاد آئے نہ سر یاد آیا گر پڑے ہاتھ سے کاغذ باقیؔ اپنی محنت کا ثمر یاد آیا

— باقی صدیقی