سپیکرز
راجا اکرام قمر کا پیش کردہ کلام
زندگی دل کا سکوں چاہتی ہے
زندگی دل کا سکوں چاہتی ہے رونق شہر سبا کیا دیکھیں کھوکھلے قہقہے پھیکی باتیں زیست کو زیست نما کیا دیکھیں زخم آواز ہی آئینہ ہے صورت نغمہ سرا کیا دیکھیں قہر دریا کا تقاضا معلوم ہم حبابوں کے سوا کیا دیکھیں سانس کلیوں کا رکا جاتا ہے شوخی موج صبا کیا دیکھیں دل ہے دیوار، نظر ہے پردہ دیکھنے والے بھلا کیا دیکھیں ایک عالم ہے غبار آلودہ جانے والے کی ادا کیا دیکھیں زندگی بھاگ رہی ہے باقیؔ شوق کو آبلہ پا کیا دیکھیں
رنگ دل رنگ نظر یاد آیا
رنگ دل رنگ نظر یاد آیا تیرے جلووں کا اثر یاد آیا وہ نظر بن گئی پیغام حیات حلقۂ شام و سحر یاد آیا یہ زمانہ یہ دل دیوانہ رشتۂ سنگ و گہر یاد آیا یہ نیا شہر یہ روشن راہیں اپنا انداز سفر یاد آیا راہ کا روپ بنی دھوپ اپنی کوئی سایہ نہ شجر یاد آیا کب نہ اس شہر میں پتھر برسے کب نہ اس شہر میں سر یاد آیا گھر میں تھا دشت نوردی کا خیال دشت میں آئے تو گھر یاد آیا گرد اڑتی ہے سر راہ خیال دل ناداں کا سفر یاد آیا ایک ہنستی ہوئی بدلی دیکھی ایک جلتا ہوا گھر یاد آیا اس طرح شام کے سائے پھیلے رات کا پچھلا پہر یاد آیا پھر چلے گھر سے تماشا بن کر پھر ترا روزن در یاد آیا کسی پتھر کی حقیقت ہی کیا دل کا آئینہ مگر یاد آیا آنچ دامان صبا سے آئی اعتبار گل تر یاد آیا دل جلا دھوپ میں ایسا اب کے پاؤں یاد آئے نہ سر یاد آیا گر پڑے ہاتھ سے کاغذ باقیؔ اپنی محنت کا ثمر یاد آیا