باقی صدیقی

ہے بولنا بھی رسم جہاں بولتے رہو باقی صدیقی

25 January 2026

19سپیکرز
310لسنرز

سپیکرز

امل خان کا پیش کردہ کلام

اپنی تنہائی پہ مر جانا پڑا

اپنی تنہائی پہ مر جانا پڑا راہ میں کیسا یہ ویرانہ پڑا کس طرف سے آئی تھی تیری صدا ہر طرف تکنا پڑا، جانا پڑا زندگی ہے ، شورشیں ہی شورشیں خود کو اکثر ڈھونڈ کر لانا پڑا تیری رحمت سے ہوئے سب میرے کام شکر ہے دامن نہ پھیلانا پڑا کوئی دل کی بات کیا کہنے لگے اپنا اک اک لفظ دہرانا پڑا راستیمں ی اس قدر تھے حادثات ہر قدم پھر دل کو سمجھانا پڑا زندگی جیسے اسی کا نام ہے اس طرح دھوکا کبھی کھانا پڑا ہے کلی بے تاب کھلنیکے لیے اور اگر کھلتے ہی مرجھانا پڑا زندگی کا راز پانے کے لیے زندگی کی راہ میں آنا پڑا راستے سے اس قدر تھے بے خبر مل گیا جو اس کو ٹھہرانا پڑا دوستوں کی بے رخی باقیؔ نہ پوچھ دشمنوں میں دل کو بہلانا پڑا

— باقی صدیقی

گھیر کے بے کسی نے مارا

گھیر کے بے کسی نے مارا کوئی بھی نہ دے سکا سہارا ساحل سے نہ کیجئے اشارا کچھ اور بھی دور اب خدا را خاموش ہیں اس طرح وہ جیسے میں نے کسی اور کو پکارا احساس ملا ہے سب کو لیکن چمکا ہے کوئی کوئی ستارا ہوتی ہے قدم قدم پہ لغزش ملتا ہے کہیں کہیں سہارا کھاتے گئے ہم فریب جتنے بڑھتا گیا حوصلہ ہمارا کس طرح کٹے گی رات باقیؔ دن تو کسی طور سے گزارا اب کیا ہو کہ لب پہ آ گیا ہے ہر چند یہ راز تھا تمہارا اس طرح خموش ہیں وہ جیسے میں نے کسی اور کو پکارا حالات کی نذر ہو نہ جائے باقیؔ ہے جو ضبط غم کا یارا

— باقی صدیقی

جو اتر کے زینۂِ شام سے تیری چشم ِخوش میں سما گئے

جو اتر کے زینۂِ شام سے تیری چشم ِخوش میں سما گئے وہی جلتے بجھتے سے مہر و ماہ میرے بام و در کو سجا گئے یہ عجیب کھیل ہے عشق کا میں نے آپ دیکھا یہ معجزہ وہ جو لفظ میرے گماں میں تھے وہ تیری زبان پر آگئے وہ جو گیت تم نے سنا نہیں میری عمر بھر کا ریاض تھا میرے درد کی تھی داستاں جسے تم ہنسی میں اڑا گئے وہ چراغ ِجاں کبھی جس کی لو نہ کسی ہوا سے نگوں ہوئی تیری بیوفائی کے وسوسے اسے چپکے چپکے بجھا گئے وہ تھا چاند شام ِوصال کا کہ تھا روپ تیرے جمال کا میری روح سے میری آنکھ تک کسی روشنی میں نہا گئے یہ جو بندگان ِنیاز ہے یہ تمام ہیں وہ لشکری جنہیں زندگی نے اماں نہ دی تو تیرے حضور میں آ گئے تیری بے رخی کے دیار میں میں ہوا کے ساتھ ہَوا ہوا تیرے آئینے کی تلاش میں میرے خواب چہرہ گنوا گئے تیرے وسوسوں کے فشار میں تیرا شرار ِرنگ اجڑ گیا میری خواہشوں کے غبار میں میرے ماہ و سال ِوفا گئے وہ عجیب پھول سے لفظ تھے تیرے ہونٹ جن سے مہک اٹھے میرے دشتِ خواب میں دور تک کوئی باغ جیسے لگا گئے میری عمر سے نہ سمٹ سکے میرے دل میں اتنے سوال تھے تیرے پاس جتنے جواب تھے تیری اک نگاہ میں آ گئے

— امجد اسلام امجد