باقی صدیقی

ہے بولنا بھی رسم جہاں بولتے رہو باقی صدیقی

25 January 2026

19سپیکرز
310لسنرز

سپیکرز

زاہدحسین کا پیش کردہ کلام

وقت رستے میں کھڑا ہے کہ نہیں

وقت رستے میں کھڑا ہے کہ نہیں دل سے اب پوچھ خدا ہے کہ نہیں صحبت شیشہ گراں ہے انکار سنگ آئینہ بنا ہے کہ نہیں ہر کرن وقت سحر کہتی ہے روزن دل کوئی وا ہے کہ نہیں رنگ ہر بات میں بھرنے والو قصہ کچھ آگے بڑھا ہے کہ نہیں زندگی جرم بنی جاتی ہے جرم کی کوئی سزا ہے کہ نہیں دوست ہر عیب چھپا لیتے ہیں کوئی دشمن بھی ترا ہے کہ نہیں زخم دل منزل جاں تک آئے سنگ رہ ساتھ چلا ہے کہ نہیں کھو گئے راہ کے سناٹے میں اب کوئی دل کی صدا ہے کہ نہیں ہم ترسنے لگے بوئے گل کو کہیں گلشن میں صبا ہے کہ نہیں حکم حاکم ہے کہ خاموش رہو بولو اب کوئی گلہ ہے کہ نہیں چپ تو ہو جاتے ہیں لیکن باقیؔ اس میں بھی اپنا بھلا ہے کہ نہیں

— باقی صدیقی

صبح کا بھید ملا کیا ہم کو

صبح کا بھید ملا کیا ہم کو لگ گیا رات کا دھڑکا ہم کو شوق نظارا کا پردہ اٹھا نظر آنے لگی دنیا ہم کو کشتیاں ٹوٹ گئی ہیں ساری اب لیے پھرتا ہے دریا ہم کو بھیڑ میں کھو گئے آخر ہم بھی نہ ملا جب کوئی رستہ ہم کو تلخئ غم کا مداوا معلوم پڑ گیا زہر کا چسکا ہم کو تیرے غم سے تو سکوں ملتا ہے اپنے شعلوں نے جلایا ہم کو گھر کو یوں دیکھ رہے ہیں جیسے آج ہی گھر نظر آیا ہم کو ہم کہ شعلہ بھی ہیں اور شبنم بھی تو نے کس رنگ میں دیکھا ہم کو جلوۂ لالہ و گل ہے دیوار کبھی ملتے سر صحرا ہم کو لے اڑی دل کو نسیم سحری بوئے گل کر گئی تنہا ہم کو سیر گلشن نے کیا آوارہ لگ گیا روگ صبا کا ہم کو یاد آئی ہیں برہنہ شاخیں تھام لے اے گل تازہ ہم کو لے گیا ساتھ اڑا کر باقیؔ ایک سوکھا ہوا پتا ہم کو

— باقی صدیقی

آج یوں موسم نے دی جشن محبت کی خبر

آج یوں موسم نے دی جشن محبت کی خبر پھوٹ کر رونے لگے ہیں ، میں محبت اور تم ہم نے جونہی کر لیا محسوس منزل ہے قریب راستے کھونے لگے ہیں میں ، محبت اور تم چاند کی کرنوں نے ہم کو اس طرح بوسہ دیا دیوتا ہونے لگے ہیں میں ، محبت اور تم آج پھر محرومیوں کی داستانیں اوڑھ کر خاک میں سونے لگے ہیں میں ،محبت اور تم کھو گئے انداز بھی ، آواز بھی، الفاظ بھی خامشی ڈھونے لگے ہیں میں ، محبت اور تم

— وصی شاہ