سپیکرز
زاہدحسین کا پیش کردہ کلام
وقت رستے میں کھڑا ہے کہ نہیں
وقت رستے میں کھڑا ہے کہ نہیں دل سے اب پوچھ خدا ہے کہ نہیں صحبت شیشہ گراں ہے انکار سنگ آئینہ بنا ہے کہ نہیں ہر کرن وقت سحر کہتی ہے روزن دل کوئی وا ہے کہ نہیں رنگ ہر بات میں بھرنے والو قصہ کچھ آگے بڑھا ہے کہ نہیں زندگی جرم بنی جاتی ہے جرم کی کوئی سزا ہے کہ نہیں دوست ہر عیب چھپا لیتے ہیں کوئی دشمن بھی ترا ہے کہ نہیں زخم دل منزل جاں تک آئے سنگ رہ ساتھ چلا ہے کہ نہیں کھو گئے راہ کے سناٹے میں اب کوئی دل کی صدا ہے کہ نہیں ہم ترسنے لگے بوئے گل کو کہیں گلشن میں صبا ہے کہ نہیں حکم حاکم ہے کہ خاموش رہو بولو اب کوئی گلہ ہے کہ نہیں چپ تو ہو جاتے ہیں لیکن باقیؔ اس میں بھی اپنا بھلا ہے کہ نہیں
صبح کا بھید ملا کیا ہم کو
صبح کا بھید ملا کیا ہم کو لگ گیا رات کا دھڑکا ہم کو شوق نظارا کا پردہ اٹھا نظر آنے لگی دنیا ہم کو کشتیاں ٹوٹ گئی ہیں ساری اب لیے پھرتا ہے دریا ہم کو بھیڑ میں کھو گئے آخر ہم بھی نہ ملا جب کوئی رستہ ہم کو تلخئ غم کا مداوا معلوم پڑ گیا زہر کا چسکا ہم کو تیرے غم سے تو سکوں ملتا ہے اپنے شعلوں نے جلایا ہم کو گھر کو یوں دیکھ رہے ہیں جیسے آج ہی گھر نظر آیا ہم کو ہم کہ شعلہ بھی ہیں اور شبنم بھی تو نے کس رنگ میں دیکھا ہم کو جلوۂ لالہ و گل ہے دیوار کبھی ملتے سر صحرا ہم کو لے اڑی دل کو نسیم سحری بوئے گل کر گئی تنہا ہم کو سیر گلشن نے کیا آوارہ لگ گیا روگ صبا کا ہم کو یاد آئی ہیں برہنہ شاخیں تھام لے اے گل تازہ ہم کو لے گیا ساتھ اڑا کر باقیؔ ایک سوکھا ہوا پتا ہم کو
آج یوں موسم نے دی جشن محبت کی خبر
آج یوں موسم نے دی جشن محبت کی خبر پھوٹ کر رونے لگے ہیں ، میں محبت اور تم ہم نے جونہی کر لیا محسوس منزل ہے قریب راستے کھونے لگے ہیں میں ، محبت اور تم چاند کی کرنوں نے ہم کو اس طرح بوسہ دیا دیوتا ہونے لگے ہیں میں ، محبت اور تم آج پھر محرومیوں کی داستانیں اوڑھ کر خاک میں سونے لگے ہیں میں ،محبت اور تم کھو گئے انداز بھی ، آواز بھی، الفاظ بھی خامشی ڈھونے لگے ہیں میں ، محبت اور تم