باقی صدیقی

ہے بولنا بھی رسم جہاں بولتے رہو باقی صدیقی

25 January 2026

19سپیکرز
310لسنرز

سپیکرز

نایاب کا پیش کردہ کلام

ہر طرف بکھر ہیں رنگیں سائے

ہر طرف بکھرے ہیں رنگیں سائے راہ رو کوئی نہ ٹھوکر کھائے زندگی حرف غلط ہی نکلی ہم نے معنی تو بہت پہنائے دامن خواب کہاں تک پھیلے ریگ کی موج کہاں تک جائے تجھ کو دیکھا ترے وعدے دیکھے اونچی دیوار کے لمبے سائے بند کلیوں کی ادا کہتی ہے بات کرنے کے ہیں سو پیرائے بام و در کانپ اٹھے ہیں باقیؔ اس طرح جھوم کے بادل آئے

— باقی صدیقی

ہم تو دنیا سے بد گماں ٹھہرے

ہم تو دنیا سے بد گماں ٹھہرے آگے دل کی خوشی جہاں ٹھہرے ہائے وہ قافلے جو لٹ کر بھی زیر دیوار گلستاں ٹھہرے آپ کو کارواں سے کیا مطلب آپ تو میر کارواں ٹھہرے زندگی چاہتی ہے ہنگامہ اور ہم لوگ بے زباں ٹھہرے کبھی تیری تلاش میں نکلے کبھی بن کر ترا نشاں ٹھہرے گردش دہر ساتھ ساتھ رہی ہم جدھر بھی گئے جہاں ٹھہرے ہر قدم پر تھا اک صنم خانہ کیا بتائیں کہاں کہاں ٹھہرے کچھ تو کج رو جہاں بھی ہے باقیؔ اور کچھ ہم بھی قصہ خواں ٹھہرے

— باقی صدیقی