سپیکرز
ایمان
ہوسٹ
ثنا سوئٹ
کو ہوسٹ
نور مائیر
کو ہوسٹ
افتخار احمد
آئیڈیا
افراسیاب
امل خان
ایم سعید
حسین بلوچ
حماد ابراہیم
حمایت اللہ
راجا اکرام قمر
زاہدحسین
سحربیاں
سید جینٹلمین
شہزاد
فائیٹر
کریسنٹ
گلشن شیرازی
مسٹر ایکس
نایاب
ندیم بخاری
واصف سیفی
یادرفتگان
نایاب کا پیش کردہ کلام
ہر طرف بکھر ہیں رنگیں سائے
ہر طرف بکھرے ہیں رنگیں سائے راہ رو کوئی نہ ٹھوکر کھائے زندگی حرف غلط ہی نکلی ہم نے معنی تو بہت پہنائے دامن خواب کہاں تک پھیلے ریگ کی موج کہاں تک جائے تجھ کو دیکھا ترے وعدے دیکھے اونچی دیوار کے لمبے سائے بند کلیوں کی ادا کہتی ہے بات کرنے کے ہیں سو پیرائے بام و در کانپ اٹھے ہیں باقیؔ اس طرح جھوم کے بادل آئے
ہم تو دنیا سے بد گماں ٹھہرے
ہم تو دنیا سے بد گماں ٹھہرے آگے دل کی خوشی جہاں ٹھہرے ہائے وہ قافلے جو لٹ کر بھی زیر دیوار گلستاں ٹھہرے آپ کو کارواں سے کیا مطلب آپ تو میر کارواں ٹھہرے زندگی چاہتی ہے ہنگامہ اور ہم لوگ بے زباں ٹھہرے کبھی تیری تلاش میں نکلے کبھی بن کر ترا نشاں ٹھہرے گردش دہر ساتھ ساتھ رہی ہم جدھر بھی گئے جہاں ٹھہرے ہر قدم پر تھا اک صنم خانہ کیا بتائیں کہاں کہاں ٹھہرے کچھ تو کج رو جہاں بھی ہے باقیؔ اور کچھ ہم بھی قصہ خواں ٹھہرے