سپیکرز
ایم سعید کا پیش کردہ کلام
وہ اندھیرا ہے جدھر جاتے ہیں ہم
وہ اندھیرا ہے جدھر جاتے ہیں ہم اپنی دیواروں سے ٹکراتے ہیں ہم کاٹتے ہیں رات جانے کس طرح صبح دم گھر سے نکل آتے ہیں ہم بند کمرے میں سکوں ملنے لگا جب ہوا چلتی ہے گھبراتے ہیں ہم ہائے وہ باتیں جو کہہ سکتے نہیں اور تنہائی میں دہراتے ہیں ہم زندگی کی کشمکش باقیؔ نہ پوچھ نیند جب آتی ہے سو جاتے ہیں ہم
اس کار گہ رنگ میں ہم تنگ نہیں کیا
اس کار گہ رنگ میں ہم تنگ نہیں کیا جو سر پہ لگا ہے ابھی وہ سنگ نہیں کیا تصویر کو تصویر دکھائی نہیں جاتی اس آئنہ خانے میں نظر دنگ نہیں کیا ہے حلقۂ جاں اپنی وفاؤں کا تصور اس داغ سے آگے کوئی فرسنگ نہیں کیا ہر بات پہ ہم دیتے ہیں غیروں کا حوالہ اپنا کوئی آہنگ کوئی رنگ نہیں کیا بخشے ہوئے اک گھونٹ پہ ہم جھوم رہے ہیں اب مانگ کے پینا بھی کوئی ننگ نہیں کیا زخم دل بے تاب ہے ہاتھوں میں نوالہ اس بات پہ دنیا سے مری جنگ نہیں کیا وہ رنگ نہیں شعلۂ احساس میں باقیؔ ہم ساز تمنا سے ہم آہنگ نہیں کیا
کبھی اے حقیقت منتظر نظر آ لباس مجاز میں
کبھی اے حقیقت منتظر نظر آ لباس مجاز میں کہ ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں مری جبین نیاز میں طرب آشنائے خروش ہو تو نوا ہے محرم گوش ہو وہ سرود کیا کہ چھپا ہوا ہو سکوت پردۂ ساز میں تو بچا بچا کے نہ رکھ اسے ترا آئنہ ہے وہ آئنہ کہ شکستہ ہو تو عزیز تر ہے نگاہ آئنہ ساز میں دم طوف کرمک شمع نے یہ کہا کہ وہ اثر کہن نہ تری حکایت سوز میں نہ مری حدیث گداز میں نہ کہیں جہاں میں اماں ملی جو اماں ملی تو کہاں ملی مرے جرم خانہ خراب کو ترے عفو بندہ نواز میں نہ وہ عشق میں رہیں گرمیاں نہ وہ حسن میں رہیں شوخیاں نہ وہ غزنوی میں تڑپ رہی نہ وہ خم ہے زلف ایاز میں جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں