مومن خان مومن

جب دیا رنج بتوں نے تو خدا یاد آیا مومن خان مومن

28 January 2026

15سپیکرز
220لسنرز

سپیکرز

گلشن شیرازی کا پیش کردہ کلام

کرتا ہے قتل عام وہ اغیار کے لیے

کرتا ہے قتل عام وہ اغیار کے لیے دس بیس روز مرتے ہیں دو چار کے لیے دیکھا عذاب رنج دل زار کے لیے عاشق ہوئے ہیں وہ مرے آزار کے لیے دل عشق تیری نذر کیا جان کیونکہ دوں رکھا ہے اس کو حسرت دیدار کے لیے قتل اس نے جرم صبر جفا پر کیا مجھے یہ ہی سزا تھی ایسے گنہ گار کے لیے لے تو ہی بھیج دے کوئی پیغام تلخ اب تجویز زہر ہے ترے بیمار کے لیے آتا نہیں ہے تو تو نشانی ہی بھیج دے تسکین اضطراب دل زار کے لیے کیا دل دیا تھا اس لیے میں نے تمہیں کہ تم ہو جاؤ یوں عدو مرے اغیار کے لیے چلنا تو دیکھنا کہ قیامت نے بھی قدم طرز خرام و شوخئ رفتار کے لیے جی میں ہے موتیوں کی لڑی اس کو بھیج دوں اظہار حال چشم گہربار کے لیے دیتا ہوں اپنے لب کو بھی گلبرگ سے مثال بوسے جو خواب میں ترے رخسار کے لیے جینا امید وصل پہ ہجراں میں سہل تھا مرتا ہوں زندگانیٔ دشوار کے لیے مومنؔ کو تو نہ لائے کہیں دام میں وہ بت ڈھونڈے ہے تار سبحہ کے زنار کے لیے

— مومن خاں مومن