مومن خان مومن

جب دیا رنج بتوں نے تو خدا یاد آیا مومن خان مومن

28 January 2026

15سپیکرز
220لسنرز

سپیکرز

غالب کا پیش کردہ کلام

دفن جب خاک میں ہم سوختہ ساماں ہوں گے

دفن جب خاک میں ہم سوختہ ساماں ہوں گے فلس ماہی کے گل شمع شبستاں ہوں گے ناوک انداز جدھر دیدۂ جاناں ہوں گے نیم بسمل کئی ہوں گے کئی بے جاں ہوں گے تاب نظارہ نہیں آئنہ کیا دیکھنے دوں اور بن جائیں گے تصویر جو حیراں ہوں گے تو کہاں جائے گی کچھ اپنا ٹھکانا کر لے ہم تو کل خواب عدم میں شب ہجراں ہوں گے ناصحا دل میں تو اتنا تو سمجھ اپنے کہ ہم لاکھ ناداں ہوئے کیا تجھ سے بھی ناداں ہوں گے کر کے زخمی مجھے نادم ہوں یہ ممکن ہی نہیں گر وہ ہوں گے بھی تو بے وقت پشیماں ہوں گے ایک ہم ہیں کہ ہوئے ایسے پشیمان کہ بس ایک وہ ہیں کہ جنہیں چاہ کے ارماں ہوں گے ہم نکالیں گے سن اے موج ہوا بل تیرا اس کی زلفوں کے اگر بال پریشاں ہوں گے صبر یا رب مری وحشت کا پڑے گا کہ نہیں چارہ فرما بھی کبھی قیدئ زنداں ہوں گے منت حضرت عیسیٰ نہ اٹھائیں گے کبھی زندگی کے لیے شرمندۂ احساں ہوں گے تیرے دل تفتہ کی تربت پہ عدو جھوٹا ہے گل نہ ہوں گے شرر آتش سوزاں ہوں گے غور سے دیکھتے ہیں طوف کو آہوئے حرم کیا کہیں اس کے سگ کوچہ کے قرباں ہوں گے داغ دل نکلیں گے تربت سے مری جوں لالہ یہ وہ اخگر نہیں جو خاک میں پنہاں ہوں گے چاک پردے سے یہ غمزے ہیں تو اے پردہ نشیں ایک میں کیا کہ سبھی چاک گریباں ہوں گے پھر بہار آئی وہی دشت نوردی ہوگی پھر وہی پاؤں وہی خار مغیلاں ہوں گے سنگ اور ہاتھ وہی وہ ہی سر و داغ جنون وہ ہی ہم ہوں گے وہی دشت و بیاباں ہوں گے عمر ساری تو کٹی عشق بتاں میں مومنؔ آخری وقت میں کیا خاک مسلماں ہوں گے

— مومن خاں مومن