سپیکرز
زاہدحسین کا پیش کردہ کلام
آنکھوں سے حیا ٹپکے ہے انداز تو دیکھو
آنکھوں سے حیا ٹپکے ہے انداز تو دیکھو ہے بو الہوسوں پر بھی ستم ناز تو دیکھو اس بت کے لیے میں ہوس حور سے گزرا اس عشق خوش انجام کا آغاز تو دیکھو چشمک مری وحشت پہ ہے کیا حضرت ناصح طرز نگہ چشم فسوں ساز تو دیکھو ارباب ہوس ہار کے بھی جان پہ کھیلے کم طالعی عاشق جاں باز تو دیکھو مجلس میں مرے ذکر کے آتے ہی اٹھے وہ بدنامیٔ عشاق کا اعزاز تو دیکھو محفل میں تم اغیار کو دز دیدہ نظر سے منظور ہے پنہاں نہ رہے راز تو دیکھو اس غیرت ناہید کی ہر تان ہے دیپک شعلہ سا لپک جائے ہے آواز تو دیکھو دیں پاکی دامن کی گواہی مرے آنسو اس یوسف بے درد کا اعجاز تو دیکھو جنت میں بھی مومنؔ نہ ملا ہائے بتوں سے جور اجل تفرقہ پرداز تو دیکھو
ٹھانی تھی دل میں اب نہ ملیں گے کسی سے ہم
ٹھانی تھی دل میں اب نہ ملیں گے کسی سے ہم پر کیا کریں کہ ہو گئے ناچار جی سے ہم ہنستے جو دیکھتے ہیں کسی کو کسی سے ہم منہ دیکھ دیکھ روتے ہیں کس بے کسی سے ہم ہم سے نہ بولو تم اسے کیا کہتے ہیں بھلا انصاف کیجے پوچھتے ہیں آپ ہی سے ہم بیزار جان سے جو نہ ہوتے تو مانگتے شاہد شکایتوں پہ تری مدعی سے ہم اس کو میں جا مریں گے مدد اے ہجوم شوق آج اور زور کرتے ہیں بے طاقتی سے ہم صاحب نے اس غلام کو آزاد کر دیا لو بندگی کہ چھوٹ گئے بندگی سے ہم بے روئے مثل ابر نہ نکلا غبار دل کہتے تھے ان کو برق تبسم ہنسی سے ہم ان ناتوانیوں پہ بھی تھے خار راہ غیر کیوں کر نکالے جاتے نہ اس کی گلی سے ہم کیا گل کھلے گا دیکھیے ہے فصل گل تو دور اور سوئے دشت بھاگتے ہیں کچھ ابھی سے ہم منہ دیکھنے سے پہلے بھی کس دن وہ صاف تھا بے وجہ کیوں غبار رکھیں آرسی سے ہم ہے چھیڑ اختلاط بھی غیروں کے سامنے ہنسنے کے بدلے روئیں نہ کیوں گدگدی سے ہم وحشت ہے عشق پردہ نشیں میں دم بکا منہ ڈھانکتے ہیں پردۂ چشم پری سے ہم کیا دل کو لے گیا کوئی بیگانہ آشنا کیوں اپنے جی کو لگتے ہیں کچھ اجنبی سے ہم لے نام آرزو کا تو دل کو نکال لیں مومنؔ نہ ہوں جو ربط رکھیں بدعتی سے ہم