مومن خان مومن

جب دیا رنج بتوں نے تو خدا یاد آیا مومن خان مومن

28 January 2026

15سپیکرز
220لسنرز

سپیکرز

زاہدحسین کا پیش کردہ کلام

آنکھوں سے حیا ٹپکے ہے انداز تو دیکھو

آنکھوں سے حیا ٹپکے ہے انداز تو دیکھو ہے بو الہوسوں پر بھی ستم ناز تو دیکھو اس بت کے لیے میں ہوس حور سے گزرا اس عشق خوش انجام کا آغاز تو دیکھو چشمک مری وحشت پہ ہے کیا حضرت ناصح طرز نگہ چشم فسوں ساز تو دیکھو ارباب ہوس ہار کے بھی جان پہ کھیلے کم طالعی عاشق جاں باز تو دیکھو مجلس میں مرے ذکر کے آتے ہی اٹھے وہ بدنامیٔ عشاق کا اعزاز تو دیکھو محفل میں تم اغیار کو دز دیدہ نظر سے منظور ہے پنہاں نہ رہے راز تو دیکھو اس غیرت ناہید کی ہر تان ہے دیپک شعلہ سا لپک جائے ہے آواز تو دیکھو دیں پاکی دامن کی گواہی مرے آنسو اس یوسف بے درد کا اعجاز تو دیکھو جنت میں بھی مومنؔ نہ ملا ہائے بتوں سے جور اجل تفرقہ پرداز تو دیکھو

— مومن خاں مومن

ٹھانی تھی دل میں اب نہ ملیں گے کسی سے ہم

ٹھانی تھی دل میں اب نہ ملیں گے کسی سے ہم پر کیا کریں کہ ہو گئے ناچار جی سے ہم ہنستے جو دیکھتے ہیں کسی کو کسی سے ہم منہ دیکھ دیکھ روتے ہیں کس بے کسی سے ہم ہم سے نہ بولو تم اسے کیا کہتے ہیں بھلا انصاف کیجے پوچھتے ہیں آپ ہی سے ہم بیزار جان سے جو نہ ہوتے تو مانگتے شاہد شکایتوں پہ تری مدعی سے ہم اس کو میں جا مریں گے مدد اے ہجوم شوق آج اور زور کرتے ہیں بے طاقتی سے ہم صاحب نے اس غلام کو آزاد کر دیا لو بندگی کہ چھوٹ گئے بندگی سے ہم بے روئے مثل ابر نہ نکلا غبار دل کہتے تھے ان کو برق تبسم ہنسی سے ہم ان ناتوانیوں پہ بھی تھے خار راہ غیر کیوں کر نکالے جاتے نہ اس کی گلی سے ہم کیا گل کھلے گا دیکھیے ہے فصل گل تو دور اور سوئے دشت بھاگتے ہیں کچھ ابھی سے ہم منہ دیکھنے سے پہلے بھی کس دن وہ صاف تھا بے وجہ کیوں غبار رکھیں آرسی سے ہم ہے چھیڑ اختلاط بھی غیروں کے سامنے ہنسنے کے بدلے روئیں نہ کیوں گدگدی سے ہم وحشت ہے عشق پردہ نشیں میں دم بکا منہ ڈھانکتے ہیں پردۂ چشم پری سے ہم کیا دل کو لے گیا کوئی بیگانہ آشنا کیوں اپنے جی کو لگتے ہیں کچھ اجنبی سے ہم لے نام آرزو کا تو دل کو نکال لیں مومنؔ نہ ہوں جو ربط رکھیں بدعتی سے ہم

— مومن خاں مومن