مومن خان مومن

جب دیا رنج بتوں نے تو خدا یاد آیا مومن خان مومن

28 January 2026

15سپیکرز
220لسنرز

سپیکرز

سید جینٹلمین کا پیش کردہ کلام

اگر غفلت سے باز آیا جفا کی

اگر غفلت سے باز آیا جفا کی تلافی کی بھی ظالم نے تو کیا کی مرے آغاز الفت میں ہم افسوس اسے بھی رہ گئی حسرت جفا کی کبھی انصاف ہی دیکھا نہ دیدار قیامت اکثر اس کو میں رہا کی فلک کے ہاتھ سے میں جا چھپوں گر خبر لا دے کوئی تحت الثرا کی شب وصل عدو کیا کیا جلا ہوں حقیقت کھل گئی روز جزا کی چمن میں کوئی اس کو سے نہ آیا گئی برباد سب محنت صبا کی کشاد دل پہ باندھی ہے کمر آج نہیں ہے خیریت بند قبا کی کیا جب التفات اس نے ذرا سا پڑی ہم کو حصول مدعا کی کہا ہے غیر نے تم سے مرا حال کہے دیتی ہے بے باکی ادا کی تمہیں شور فغاں سے میرے کیا کام خبر لو اپنی چشم سرمہ سا کی دیا علم و ہنر حسرت کشی کو فلک نے مجھ سے یہ کیسی دغا کی غم مقصد رسی تا نزع اور ہم اب آئی موت بخت نارسا کی مجھے اے دل تری جلدی نے مارا نہیں تقصیر اس دیر آشنا کی جفا سے تھک گئے تو بھی نہ پوچھا کہ تو نے کس توقع پر وفا کی کہا اس بت سے مرتا ہوں تو مومنؔ کہا میں کیا کروں مرضی خدا کی

— مومن خاں مومن

نہ کٹتي ہم سے شب جدائي کي

نہ کٹتي ہم سے شب جدائي کي کتين ہي طاقت آزمائي کي رشک دشمن بہانہ تھا سچ ہے ميں نے ہي تم سے بے وفائي کي کيوں برا کہتے ہو بھلا نا صح مين نے حضرت سے کيا برائي کي دام عاشق ہے دل دہي نہ ستم دل کو چھينا تو دل رہائي کي گر نہ بگڑو تو کيا بگڑتا ہے مجھ ميں طاقت نہيں لڑائي کي گھر تو اس ماہ وش کا دور نہ تھا ليکن طالع نے نار سائي کي دل ہوا خوں خيال ناخن يار تو نے اچھي گرہ کشائي کي مومن آئو تمہيں بھي دکھلا دوں سير بت خانے ميں خدئي کي​

— مومن خان مومن