سپیکرز
سید جینٹلمین کا پیش کردہ کلام
اگر غفلت سے باز آیا جفا کی
اگر غفلت سے باز آیا جفا کی تلافی کی بھی ظالم نے تو کیا کی مرے آغاز الفت میں ہم افسوس اسے بھی رہ گئی حسرت جفا کی کبھی انصاف ہی دیکھا نہ دیدار قیامت اکثر اس کو میں رہا کی فلک کے ہاتھ سے میں جا چھپوں گر خبر لا دے کوئی تحت الثرا کی شب وصل عدو کیا کیا جلا ہوں حقیقت کھل گئی روز جزا کی چمن میں کوئی اس کو سے نہ آیا گئی برباد سب محنت صبا کی کشاد دل پہ باندھی ہے کمر آج نہیں ہے خیریت بند قبا کی کیا جب التفات اس نے ذرا سا پڑی ہم کو حصول مدعا کی کہا ہے غیر نے تم سے مرا حال کہے دیتی ہے بے باکی ادا کی تمہیں شور فغاں سے میرے کیا کام خبر لو اپنی چشم سرمہ سا کی دیا علم و ہنر حسرت کشی کو فلک نے مجھ سے یہ کیسی دغا کی غم مقصد رسی تا نزع اور ہم اب آئی موت بخت نارسا کی مجھے اے دل تری جلدی نے مارا نہیں تقصیر اس دیر آشنا کی جفا سے تھک گئے تو بھی نہ پوچھا کہ تو نے کس توقع پر وفا کی کہا اس بت سے مرتا ہوں تو مومنؔ کہا میں کیا کروں مرضی خدا کی
نہ کٹتي ہم سے شب جدائي کي
نہ کٹتي ہم سے شب جدائي کي کتين ہي طاقت آزمائي کي رشک دشمن بہانہ تھا سچ ہے ميں نے ہي تم سے بے وفائي کي کيوں برا کہتے ہو بھلا نا صح مين نے حضرت سے کيا برائي کي دام عاشق ہے دل دہي نہ ستم دل کو چھينا تو دل رہائي کي گر نہ بگڑو تو کيا بگڑتا ہے مجھ ميں طاقت نہيں لڑائي کي گھر تو اس ماہ وش کا دور نہ تھا ليکن طالع نے نار سائي کي دل ہوا خوں خيال ناخن يار تو نے اچھي گرہ کشائي کي مومن آئو تمہيں بھي دکھلا دوں سير بت خانے ميں خدئي کي