مومن خان مومن

جب دیا رنج بتوں نے تو خدا یاد آیا مومن خان مومن

28 January 2026

15سپیکرز
220لسنرز

سپیکرز

ثنا سوئٹ کا پیش کردہ کلام

قہر ہے موت ہے قضا ہے عشق

قہر ہے موت ہے قضا ہے عشق سچ تو یوں ہے بری بلا ہے عشق اثر غم ذرا بتا دینا وہ بہت پوچھتے ہیں کیا ہے عشق آفت جاں ہے کوئی پردہ نشیں کہ مرے دل میں آ چھپا ہے عشق بوالہوس اور لاف جانبازی کھیل کیسا سمجھ لیا ہے عشق وصل میں احتمال شادی مرگ چارہ گر درد بے دوا ہے عشق سوجھے کیونکر فریب دل داری دشمن آشنا نما ہے عشق کس ملاحت سرشت کو چاہا تلخ کامی پہ بامزا ہے عشق ہم کو ترجیح تم پہ ہے یعنی دل ربا حسن و جاں ربا ہے عشق دیکھ حالت مری کہیں کافر نام دوزخ کا کیوں دھرا ہے عشق دیکھیے کس جگہ ڈبو دے گا میری کشتی کا ناخدا ہے عشق اب تو دل عشق کا مزا چکھا ہم نہ کہتے تھے کیوں برا ہے عشق آپ مجھ سے نباہیں گے سچ ہے باوفا حسن و بے وفا ہے عشق میں وہ مجنون وحشت آرا ہوں نام سے میرے بھاگتا ہے عشق قیس و فرہاد و وامق و مومنؔ مر گئے سب ہی کیا وبا ہے عشق

— مومن خاں مومن

جلتا ہوں ہجر شاہد و یاد شراب میں

جلتا ہوں ہجر شاہد و یاد شراب میں شوق ثواب نے مجھے ڈالا عذاب میں کہتے ہیں تم کو ہوش نہیں اضطراب میں سارے گلے تمام ہوئے اک جواب میں پھیلی شمیم یار مرے اشک سرخ سے دل کو غضب فشار ہوا پیچ و تاب میں چین جبیں کو دیکھ کے دل بستہ تر ہوا کیسی کشود کار کشاد نقاب میں ہم کچھ تو بد تھے جب نہ کیا یار نے پسند اے حسرت اس قدر غلطی انتخاب میں رہتے ہیں جمع کوچۂ جاناں میں خاص و عام آباد ایک گھر ہے جہان خراب میں آنکھ اس کی پھر گئی تھی دل اپنا بھی پھر گیا یہ اور انقلاب ہوا انقلاب میں بد نام میرے گریۂ رسوا سے ہو چکے اب عذر کیا رہا نگہ بے حجاب میں مطلب کی جستجو نے یہ کیا حال کر دیا حسرت بھی اب نہیں دل ناکامیاب میں گویا کہ رو رہا ہوں رقیبوں کی جان کو آتش زبانہ زن ہوئی طوفان آب میں ناکامیوں سے کام رہا عمر بھر ہمیں پیری میں یاس ہے جو ہوس تھی شباب میں ہے اختیار یار میں سود و زیاں مگر فاضل تھے ہم جہاں سے قضا کے حساب میں ناصح ہے عیب جو و دل آزار اس قدر گویا ثواب ہے سخن ناصواب میں دونوں کا ایک حال ہے یہ مدعا ہو کاش وہ ہی خط اس نے بھیج دیا کیوں جواب میں تقدیر بھی بری مری تقریر بھی بری بگڑے وہ پرسش سبب اجتناب میں کیا جلوے یاد آئے کہ اپنی خبر نہیں بے بادہ مست ہوں میں شب ماہتاب میں ہے منتوں کا وقت شکایت رہی رہی آئے تو ہیں منانے کو وہ پر عتاب میں تیری جفا نہ ہو تو ہے سب دشمنوں سے امن بدمست غیر محو دل اور بخت خواب میں پیہم سجود پائے صنم پر دم وداع مومنؔ خدا کو بھول گئے اضطراب میں

— مومن خاں مومن