مومن خان مومن

جب دیا رنج بتوں نے تو خدا یاد آیا مومن خان مومن

28 January 2026

15سپیکرز
220لسنرز

سپیکرز

آمنہ نعیم کا پیش کردہ کلام

رویا کریں گے آپ بھی پہروں اسی طرح

رویا کریں گے آپ بھی پہروں اسی طرح اٹکا کہیں جو آپ کا دل بھی مری طرح آتا نہیں ہے وہ تو کسی ڈھب سے داؤ میں بنتی نہیں ہے ملنے کی اس کے کوئی طرح تشبیہ کس سے دوں کہ طرح دار کی مرے سب سے نرالی وضع ہے سب سے نئی طرح مر چک کہیں کہ تو غم ہجراں سے چھوٹ جائے کہتے تو ہیں بھلے کی ولیکن بری طرح نے تاب ہجر میں ہے نہ آرام وصل میں کم بخت دل کو چین نہیں ہے کسی طرح لگتی ہیں گالیاں بھی ترے منہ سے کیا بھلی قربان تیرے پھر مجھے کہہ لے اسی طرح پامال ہم نہ ہوتے فقط جور چرخ سے آئی ہماری جان پہ آفت کئی طرح نے جائے واں بنے ہے نہ بن جائے چین ہے کیا کیجیے ہمیں تو ہے مشکل سبھی طرح معشوق اور بھی ہیں بتا دے جہان میں کرتا ہے کون ظلم کسی پر تری طرح ہوں جاں بہ لب بتان ستم گر کے ہاتھ سے کیا سب جہاں میں جیتے ہیں مومنؔ اسی طرح

— مومن خاں مومن