مومن خان مومن

جب دیا رنج بتوں نے تو خدا یاد آیا مومن خان مومن

28 January 2026

15سپیکرز
220لسنرز

سپیکرز

شہزاد کا پیش کردہ کلام

گر غیر کے گھر سے نہ دل آرام نکلتا

گر غیر کے گھر سے نہ دل آرام نکلتا دم کاہے کو یوں اے دل ناکام نکلتا میں وہم سے مرتا ہوں وہاں رعب سے اس کے قاصد کی زباں سے نہیں پیغام نکلتا کرتے جو مجھے یاد شب وصل عدو تم کیا صبح کہ خورشید نہ تا شام نکلتا جب جانتے تاثیر کہ دشمن بھی وہاں سے اپنی طرح اے گردش ایام نکلتا ہر ایک سے اس بزم میں شب پوچھتے تھے نام تھا لطف جو کوئی مرا ہم نام نکلتا کیوں کام طلب ہے مرے آزار سے گردوں ناکام سے دیکھا ہے کہیں کام نکلتا تھی نوحہ زنی دل کے جنازے پہ ضروری شاید کہ وہ گھبرا کے سر بام نکلتا کانٹا سا کھٹکتا ہے کلیجے میں غم ہجر یہ خار نہیں دل سے گل اندام نکلتا حوریں نہیں مومنؔ کے نصیبوں میں جو ہوتیں بت خانے ہی سے کیوں یہ بد انجام نکلتا

— مومن خاں مومن