سپیکرز
ایمان کا پیش کردہ کلام
وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو وہی یعنی وعدہ نباہ کا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو وہ جو لطف مجھ پہ تھے بیشتر وہ کرم کہ تھا مرے حال پر مجھے سب ہے یاد ذرا ذرا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو وہ نئے گلے وہ شکایتیں وہ مزے مزے کی حکایتیں وہ ہر ایک بات پہ روٹھنا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو کبھی بیٹھے سب میں جو روبرو تو اشارتوں ہی سے گفتگو وہ بیان شوق کا برملا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو ہوئے اتفاق سے گر بہم تو وفا جتانے کو دم بہ دم گلۂ ملامت اقربا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو کوئی بات ایسی اگر ہوئی کہ تمہارے جی کو بری لگی تو بیاں سے پہلے ہی بھولنا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو کبھی ہم میں تم میں بھی چاہ تھی کبھی ہم سے تم سے بھی راہ تھی کبھی ہم بھی تم بھی تھے آشنا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو سنو ذکر ہے کئی سال کا کہ کیا اک آپ نے وعدہ تھا سو نباہنے کا تو ذکر کیا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو کہا میں نے بات وہ کوٹھے کی مرے دل سے صاف اتر گئی تو کہا کہ جانے مری بلا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو وہ بگڑنا وصل کی رات کا وہ نہ ماننا کسی بات کا وہ نہیں نہیں کی ہر آن ادا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو جسے آپ گنتے تھے آشنا جسے آپ کہتے تھے با وفا میں وہی ہوں مومنؔ مبتلا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
جو تیرے منہ سے نہ ہو شرمسار آئینہ
جو تیرے منہ سے نہ ہو شرمسار آئینہ تو رخ کرے سوئے آئینہ وار آئینہ کہے ہے دیکھ کے رخسار یار آئینہ کہ اس صفائی پہ صدقے نثار آئینہ سیاہ رو نہ کرے ترک الفت گلفام میں بوالہوس کو دکھاؤں ہزار آئینہ صفائے دل کی کہاں قدر تیرہ روزی میں چراغ صبح ہے شب ہائے تار آئینہ سمجھ لیا مگر اس سبز رنگ کو طوطی کہ ہے نظارے کا امیدوار آئینہ وہ سخت جاں ہوں کہ دکھلائیں گر دم مردن تو توڑ دے کمر کوہسار آئینہ مقابل اس رخ روشن کے کھل گئی قلعی نہ ٹھہرا آگ پہ سیماب وار آئینہ سما رہے ہیں مگر تیرے نو بہ نو جلوے کہ بن گیا ہے طلسم بہار آئینہ شکست رنگ پہ مستی میں ہنستے ہیں ہم بھی دکھائیں گے انہیں وقت خمار آئینہ مجھے تو کہتے ہو مت دیکھ میری جانب تو اور آپ دیکھتے ہو بار بار آئینہ بلا ہے منع وفا نور اڑ گیا ناصح تو لے کے دیکھ تو رنگ عذار آئینہ سمجھ تو مومنؔ اگر ناروا ہو خود بینی تو دیکھیں کاہے کو پرہیزگار آئینہ