سپیکرز
افتخار احمد کا پیش کردہ کلام
مار ہی ڈال مجھے چشمِ ادا سے پہلے
مار ہی ڈال مجھے چشمِ ادا سے پہلے اپنی منزل کو پہنچ جاؤں قضا سے پہلے اِک نظر دیکھ لوُں آجاؤ قضا سے پہلے تم سے مِلنے کی تمنّا ہے خُدا سے پہلے حشر کے روز میں پُوچھونگا خُدا سے پہلے تُو نے روکا نہیں کیوں مجھ کو خطا سے پہلے اے مِری موت ٹھہر اُن کو ذرا آنے دے زہر کا جام نہ دے مجھ کو دوا سے پہلے ہاتھ پہنچے بھی نہ تھے زُلفِ دوتا تک مومن ہتھکڑی ڈال دی ظالم نے قضا سے پہلے
اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا
اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا رنج راحت فزا نہیں ہوتا بے وفا کہنے کی شکایت ہے تو بھی وعدہ وفا نہیں ہوتا ذکر اغیار سے ہوا معلوم حرف ناصح برا نہیں ہوتا کس کو ہے ذوق تلخ کامی لیک جنگ بن کچھ مزا نہیں ہوتا تم ہمارے کسی طرح نہ ہوئے ورنہ دنیا میں کیا نہیں ہوتا اس نے کیا جانے کیا کیا لے کر دل کسی کام کا نہیں ہوتا امتحاں کیجیے مرا جب تک شوق زور آزما نہیں ہوتا ایک دشمن کہ چرخ ہے نہ رہے تجھ سے یہ اے دعا نہیں ہوتا آہ طول امل ہے روز فزوں گرچہ اک مدعا نہیں ہوتا تم مرے پاس ہوتے ہو گویا جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا حال دل یار کو لکھوں کیوں کر ہاتھ دل سے جدا نہیں ہوتا رحم کر خصم جان غیر نہ ہو سب کا دل ایک سا نہیں ہوتا دامن اس کا جو ہے دراز تو ہو دست عاشق رسا نہیں ہوتا چارۂ دل سوائے صبر نہیں سو تمہارے سوا نہیں ہوتا کیوں سنے عرض مضطر مومنؔ صنم آخر خدا نہیں ہوتا
ڈر تو مجھے کس کا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا
ڈر تو مجھے کس کا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا پر حال یہ افشا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا ناصح یہ گلہ کیا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا تو کب مری سنتا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا میں بولوں تو چپ ہوتے ہیں اب آپ جبھی تک یہ رنجش بے جا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا کچھ غیر سے ہونٹوں میں کہے ہے یہ جو پوچھو تو ووہیں مکرتا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا کب پاس پھٹکنے دوں رقیبوں کو تمہارے پر پاس تمہارا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا ناصح کو جو چاہوں تو ابھی ٹھیک بنا دوں پر خوف خدا کا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا کیا کیا نہ کہے غیر کی گر بات نہ پوچھو یہ حوصلہ میرا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا کیا کہئے نصیبوں کو کہ اغیار کا شکوہ سن سن کے وہ چپکا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا مت پوچھ کہ کس واسطے چپ لگ گئی ظالم بس کیا کہوں میں کیا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا چپکے سے ترے ملنے کا گھر والوں میں تیرے اس واسطے چرچا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا ہاں تنگ دہانی کا نہ کرنے کے لیے بات ہے عذر پر ایسا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا اے چارہ گرو قابل درماں نہیں یہ درد ورنہ مجھے سودا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا ہر وقت ہے دشنام ہر اک بات میں طعنہ پھر اس پہ بھی کہتا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا کچھ سن کے جو میں چپ ہوں تو تم کہتے ہو بولو سمجھو تو یہ تھوڑا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا سنتا نہیں وہ ورنہ یہ سرگوشی اغیار کیا مجھ کو گوارا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا مومنؔ بخدا سحر بیانی کا جبھی تک ہر ایک کو دعویٰ ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا